World

ٹرمپ انتظامیہ کا ایرانی تارکینِ وطن کو سینٹرل افریقہ بھیجنے کا منصوبہ

ٹرمپ انتظامیہ کا ایرانی تارکینِ وطن کو سینٹرل افریقہ بھیجنے کا منصوبہ
۴ گھنٹے پہلے

ٹرمپ انتظامیہ ایرانیوں اور دیگر تارکینِ وطن کی ایک تعداد کو ملک بدر کر کے سینٹرل افریقہ ریپبلک بھیجنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

 

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اس معاملے سے باخبر دو وکلا اور ایک سرکاری عہدیدار نے یہ معلومات فراہم کی ہیں۔

 

وکلا کے مطابق جن ایرانی شہریوں کو امریکا ڈی پورٹ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، ان میں دو ایسی خواتین بھی شامل ہیں جنہیں ایران واپس بھیجے جانے کی صورت میں ممکنہ طور پر تشدد یا خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

 

ان خواتین کی وکیل ایملی ٹراسٹل کے مطابق ان میں سے ایک خاتون عیسائیت قبول کر چکی ہیں جبکہ دوسری جمہوریت نواز سرگرم کارکن ہیں۔

 

سینٹرل افریقہ ریپبلک طویل عرصے سے سیاسی عدم استحکام، تشدد اور غربت کا شکار ملک سمجھا جاتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق حال ہی میں اس ملک نے امریکا سے ملک بدر کیے جانے والے افراد کو قبول کرنے کے حوالے سے ایک معاہدہ کیا ہے۔

 

امریکی محکمۂ خارجہ اور سینٹرل افریقہ ریپبلک نے فوری طور پر اس معاملے پر تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

 

ایملی ٹراسٹل کے مطابق دونوں خواتین نومبر 2024 میں امریکا پہنچنے کے بعد حراست میں لے لی گئی تھیں اور انہوں نے امریکا میں سیاسی پناہ کی درخواست دے رکھی ہے۔

 

اس معاملے سے آگاہ ایک عہدیدار کے مطابق وسطی افریقی جمہوریہ جانے والی پہلی پرواز میں تقریباً 20 افراد سوار ہوں گے، جن میں شامی اور افغان شہری بھی شامل ہوں گے۔ دونوں وکلا کے مطابق یہ پرواز جمعرات کو روانہ ہو سکتی ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں