تنخواہوں، پینشن،کم از کم ماہانہ اجرت میں اضافہ،18 ہزار 771 ارب کا بجٹ پیش
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال 27-2026 کا 18 ہزار 771 ارب روپے حجم کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا، جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ کم از کم ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
بجٹ تقریر میں وزیر خزانہ نے ملکی معیشت، دفاعی کامیابیوں، سفارتی پیش رفت، ایف بی آر اصلاحات، نوجوانوں، کسانوں اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے حکومتی اقدامات کا بھی تفصیلی خاکہ پیش کیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال 27-2026 کا بجٹ پیش کیا۔
وزیر خزانہ نے بجٹ کی تیاری میں رہنمائی اور تعاون پر وزیراعظم شہباز شریف، بلاول بھٹو زرداری اور اتحادی جماعتوں کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان نے اسپیکر ڈائس کے سامنے کھڑے ہو کر احتجاج کیا، جبکہ حکومتی ارکان وزیراعظم کے گرد جمع ہو گئے۔ وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 18 ہزار 771 ارب روپے تجویز وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کا مجموعی حجم 18 ہزار 771 ارب روپے تجویز کیا ہے، جس میں سب سے زیادہ رقم قرضوں اور سود کی ادائیگی کیلئے مختص کی گئی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق قرضوں اور سود کی ادائیگی کیلئے 8 ہزار 54 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ دفاعی بجٹ کیلئے 3 ہزار ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم ایک ہزار ارب روپے تجویز کیا گیا ہے، جبکہ سبسڈیز کیلئے ایک ہزار 91 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن کی ادائیگی کیلئے ایک ہزار 169 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ ایف بی آر کے لیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ سول حکومت کے اخراجات کے لیے ایک ہزار 71 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
دفاعی کامیابیاں اور سفارتی محاذ پر پاکستان کا کردار وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستانی افواج نے بھارتی جارحیت کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا اور آج پوری دنیا پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کی معترف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’بنیان مرصوص‘ کی کامیابی ہماری تاریخ کا روشن باب ہے، جبکہ پاکستان کی دفاعی صنعت قیمتی زرمبادلہ کمانے کا ذریعہ بھی بن چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی ممالک پاکستان کے فائٹر جیٹس کو اپنی فضائیہ میں شامل کرنے کے لیے رابطے میں ہیں۔
محمد اورنگزیب نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات پاکستان کے لیے اعزاز بھی ہیں اور ایک بڑی ذمہ داری بھی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر سطح پر سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ اہم سفارتی کامیابیوں پر قومی قیادت مبارکباد کی مستحق ہے اور وزیراعظم، عسکری اور سفارتی قیادت کی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے۔ ایران، امریکہ ثالثی اور چین کی حمایت انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں ایران اور امریکہ نے پاکستان کو ایک ایماندار ثالث کے طور پر قبول کیا۔ پاکستان نے خطے میں امن کے قیام کے لیے ذمہ دارانہ سفارتی کردار ادا کیا، جبکہ اس ضمن میں پاکستان کو چین کی مکمل حمایت اور ہم آہنگی حاصل رہی۔
عوامی ریلیف اور تیل کی قیمتیں وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے سبسڈیز کے ذریعے عوام کو ریلیف فراہم کیا۔ پاکستان میں ایندھن کی کوئی قلت پیدا نہیں ہوئی اور حکومت کو عوام کو درپیش مشکلات کا مکمل ادراک ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک منتقل کر رہی ہے۔
معاشی اشاریوں میں بہتری محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جبکہ گزشتہ دو برسوں کے دوران پالیسی ریٹ میں تاریخی کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ترسیلات زر نئی بلندیوں کو چھو رہی ہیں اور موجودہ مالی سال میں مالیاتی خسارہ 4 فیصد تک آنے کی توقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر جنگ کے بادل چھٹ گئے تو مہنگائی کی شرح میں مزید کمی آئے گی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان 2022 کے بعد پہلی مرتبہ بین الاقوامی مارکیٹ میں واپس آیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فی کس آمدنی ایک ہزار 751 ڈالر سے بڑھ کر ایک ہزار 901 ڈالر ہو گئی ہے۔ اس مالی سال میں لارج سکیل مینوفیکچرنگ کی شرح نمو 6.1 فیصد رہی جبکہ خدمات کے شعبے میں 4.1 فیصد شرح نمو ریکارڈ کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر، جو تین برس قبل 4 ارب ڈالر تھے، بڑھ کر 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں اور یہ ذخائر تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ سرکاری ملازمین، پینشن اور کم از کم اجرت وفاقی وزیر خزانہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافے کا اعلان کیا۔ انہوں نے ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پینشن میں بھی 7 فیصد اضافے کی تجویز پیش کی۔ اسی طرح کم سے کم ماہانہ تنخواہ میں 10 فیصد اضافے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ بنائی گئی۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق صوبوں کو 8 ہزار 848 ارب روپے کی ادائیگی کے بعد وفاقی حکومت کو 7 ہزار 20 ارب روپے کے خسارے کا سامنا ہوگا۔
ایف بی آر اصلاحات اور ٹیکس نظام میں بہتری وزیر خزانہ نے کہا کہ ایف بی آر میں اصلاحات کا عمل جاری ہے اور ان کے نتائج حوصلہ افزا سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس تبدیلی کی قیادت خود وزیراعظم کر رہے ہیں اور اس کے مثبت ثمرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ محمد اورنگزیب کے مطابق ایف بی آر میں وسیع تر اصلاحات کی جا رہی ہیں جبکہ ٹیکس چوری کی روک تھام اور شفافیت کے فروغ کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی نظام نافذ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری کے لیے آسان اور شفاف ٹیکس نظام حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ کسانوں، سرمایہ کاروں اور نوجوانوں کے لیے اقدامات وزیر خزانہ نے کہا کہ زرخیزی پروگرام کے تحت 7 لاکھ 50 ہزار کسانوں کو قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور سب سے زیادہ اضافہ نوجوان سرمایہ کاروں کا ہے۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ 25 ہزار سے زائد ٹیک پروفیشنلز کو روزگار ملا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت لاکھوں نوجوان مستفید ہو رہے ہیں جبکہ نوجوانوں کے لیے ہنر، کاروبار اور روزگار کے مواقع میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ وزیر خزانہ کے مطابق نوجوانوں کے لیے آسان قرضوں اور زرعی فنانسنگ کے نئے مواقع بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔ نجکاری، ڈیجیٹل معیشت اور برآمدات کا فروغ محمد اورنگزیب نے کہا کہ فرسٹ ویمن بینک کے بعد پی آئی اے کی کامیاب نجکاری عمل میں آئی اور نجکاری کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے دیگر اداروں کی نجکاری بھی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل پاکستان وژن کے تحت کیش لیس معیشت کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جبکہ ڈیجیٹل ادائیگیوں اور بینکاری صارفین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے پاکستان ایکسلریٹڈ وہیکل الیکٹریفکیشن پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجارت اور ٹیرف نظام کو عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جا رہا ہے، جبکہ برآمدات میں اضافے اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے جامع اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ ملاوٹ شدہ تیل کے خلاف سخت اقدامات، مہنگی درآمدی گاڑیوں اور لگژری ’ایس یو ایس‘ پر نئے ٹیکس وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے وفاقی بجٹ 27-2026 پیش کرتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات میں ملاوٹ کی روک تھام اور مہنگی درآمدی گاڑیوں پر اضافی ٹیکس عائد کرنے کے لیے اہم اقدامات کا اعلان کیا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کا پہلا اہم اقدام جعل سازی اور پیٹرولیم مصنوعات میں ملاوٹ کے خلاف ہے، جبکہ دوسرا اقدام معاشی بوجھ کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ محمد اورنگزیب نے ایوان کو بتایا کہ حکومت نے پیٹرولیم بیسڈ سالوینٹس، جن میں ‘وائٹ اسپرٹ’، ‘پیٹرولیم نیفتھا’ اور ‘منرل ٹرپین آئل’ شامل ہیں، پر 80 روپے فی لیٹر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ مصنوعات پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کے دائرہ کار سے باہر ہیں، تاہم انہیں پٹرول اور دیگر تیلوں میں ملاوٹ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ملاوٹ سے صارفین اور صنعت دونوں متاثر وزیر خزانہ کے مطابق تیل میں ملاوٹ کے باعث ہر سال لاکھوں صارفین کی گاڑیاں، جنریٹرز اور صنعتی مشینری متاثر ہوتی ہے، جس سے نہ صرف مالی نقصان ہوتا ہے بلکہ گاڑیوں اور آلات کی کارکردگی بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملاوٹ شدہ تیل کی فروخت سے ایماندار کاروباری طبقے کو بھی نقصان پہنچتا ہے کیونکہ انہیں ایسے عناصر سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے جو غیر معیاری اور ملاوٹ شدہ مصنوعات فروخت کر کے ناجائز منافع کماتے ہیں۔
مہنگی درآمدی گاڑیوں اور ’ایس یو وی ایس‘ پر اضافی ٹیکس وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت نے معاشی بوجھ کی منصفانہ تقسیم کے تحت مہنگی درآمدی گاڑیوں اور بڑی انجِن والی اسپورٹس یوٹیلیٹی وہیکلزپر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کے تحت 2000 سی سی سے زائد اور 3000 سی سی تک کی درآمدی گاڑیوں اور ’ایس یو وی ایس‘ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لاگو کی جائے گی، جبکہ 3000 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر موجود ڈیوٹی میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔ لگژری الیکٹرک گاڑیاں بھی ٹیکس کی زد میں محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ حکومت صرف روایتی ایندھن سے چلنے والی مہنگی گاڑیوں ہی نہیں بلکہ قیمتی الیکٹرک گاڑیوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانا چاہتی ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ دو کروڑ روپے سے زائد مالیت کی لگژری الیکٹرک گاڑیوں (EVs) پر بھی یہی ٹیکس لاگو ہوگا۔ ٹیکس نظام میں توازن لانے کی کوشش وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت کی پالیسی کا مقصد عام صارفین پر اضافی بوجھ ڈالنے کے بجائے زیادہ مالی استطاعت رکھنے والے طبقے کو قومی محصولات میں مناسب حصہ ڈالنے کا پابند بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک جانب پیٹرولیم مصنوعات میں ملاوٹ کے خلاف سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب مہنگی گاڑیوں پر اضافی ٹیکس عائد کر کے محصولات میں اضافہ اور معاشی انصاف کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تنخواہ دار طبقے کو بڑا ریلیف دینے کی تجویز حکومت نے بجٹ 27-2026 میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے لیے 4 انکم ٹیکس سلیبز کی شرح میں کمی کرنے کی تجویز کردی ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ تنخواہ دار طبقے پر عائد سرچارج کو مکمل طور پر ختم کردیا گیا ہے، گزشتہ بجٹ میں سرچارج کو 10 فیصد سے کم کرکے 9 فیصد کیا گیا تھا۔
فنانس بل کے مطابق بجٹ 27-2026 میں گزشتہ سال کے بجٹ کی طرح کل 6 انکم ٹیکس سلیبز کی جگہ اب 8 سلیب کردی ہیں، جن پر مختلف شرحوں کے مطابق ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ یہ سلیبز سالانہ 6 لاکھ تک تنخواہ، 6 لاکھ سے 12 لاکھ، 12 لاکھ سے 22 لاکھ، 22 لاکھ سے 32 لاکھ، 32 لاکھ سے 41 لاکھ، اور 41 لاکھ سے 56 لاکھ اور 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے سالانہ تنخواہ حاصل کرنے والوں کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔ مجوزہ فنانس بل میں 4 ٹیکس سلیبز کو ریلیف دیا گیا ہے، سلیب کے تحت 22 لاکھ سے زیادہ تنخواہ پر انکم ٹیکس 23 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، سالانہ 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے سالانہ تنخواہ پر ٹیکس کی شرح کو 30 فیصد سے کم کرکے 25 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 41 لاکھ روپے سے 56 لاکھ روپے تک کی سالانہ آمدنی پر 35 فیصد ٹیکس کی شرح کو کم کرکے 29 فیصد کرنے کی تجویز جبکہ 56 لاکھ روپے سے 70 لاکھ روپے سالانہ آمدنی والوں کی ٹیکس شرح کو 35 فیصد سے کم کرکے 32 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پچھلے مالی سال 26-2026 میں تنخواہ دار افراد کے لیے 6 انکم ٹیکس سلیبز مقرر کیے گئے تھے، پہلی سلیب 6 لاکھ روپے سالانہ تک کی آمدنی پر مکمل ٹیکس چھوٹ حاصل تھی، دوسری سلیب 6 لاکھ ایک روپے سے 12 لاکھ روپے تک آمدنی رکھنے والے افراد پر ڈھائی فیصد ٹیکس لاگو تھا۔ تیسری سلیب 12 لاکھ ایک سے 22 لاکھ روپے آمدنی پر 11 فیصد ٹیکس اور 6 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس، چوتھی سلیب 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے پر 23 فیصد ٹیکس اور ایک لاکھ 16 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس عائد کیا گیا تھا۔ گزشتہ بجٹ میں پانچویں سلیب 32 لاکھ ایک سے 41 لاکھ روپے تک تنخواہ پر 30 فیصد انکم ٹیکس اور 3 لاکھ 46 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس بھی عائد کیا گیا تھا، جبکہ چھٹے سلیب میں شامل افراد کے لیے 41 لاکھ روپے سالانہ سے زیادہ تنخواہ پر 35 فیصد انکم ٹیکس اور 6 لاکھ 16 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس عائد کیا گیا تھا۔
الیکٹرک گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور رکشوں پر ٹیکس رعایت برقرار رکھنے کا اعلان وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے آٹو موبائل شعبے کے لیے متعدد اہم اعلانات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آٹو سیکٹر پاکستان کی معیشت کے اہم ترین شعبوں میں شامل ہے اور گزشتہ ایک دہائی کے دوران متعارف کرائی گئی پالیسیوں نے اس صنعت کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق حکومتی اقدامات کے نتیجے میں ملک میں اوریجنل ایکوپمنٹ مینوفیکچررز (او ای ایم ایس ) اور اسمبلرز کی تعداد بڑھ کر 118 ہو چکی ہے، جن میں ٹریکٹر، موٹر سائیکل، مسافر گاڑیوں اور کمرشل گاڑیوں کے مینوفیکچررز شامل ہیں۔ آٹو انڈسٹری میں سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کا فروغ وزیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے دوران آٹو سیکٹر میں نئے مینوفیکچرنگ پلانٹس کے قیام اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر نمایاں سرمایہ کاری کی گئی، جس سے نہ صرف صنعت میں مسابقت میں اضافہ ہوا بلکہ شعبے کی جدید خطوط پر ترقی اور ماڈرنائزیشن بھی ممکن ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ آٹو موبائل صنعت کی مزید ترقی کے لیے حکومت ایک نئی آٹو سیکٹر پالیسی پر کام کر رہی ہے۔ نئی آٹو پالیسی وزیراعظم کی کمیٹی کے زیر غور وزیر خزانہ کے مطابق نئی آٹو سیکٹر پالیسی اس وقت وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی کے زیر غور ہے۔ پالیسی کی حتمی تفصیلات وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد پارلیمنٹ کے سامنے پیش کی جائیں گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئی پالیسی مقامی آٹو صنعت کے فروغ، سرمایہ کاری میں اضافے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو مزید تقویت دے گی۔ الیکٹرک گاڑیوں پر مراعات برقرار رکھنے کا فیصلہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اعلان کیا کہ حکومت نے الیکٹرک موٹر سائیکلوں، رکشوں، گاڑیوں اور بسوں کے لیے موجودہ رعایتی ٹیکس نظام کو آئندہ مالی سال کے دوران بھی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کی حوصلہ افزائی جاری رکھے گی تاکہ ایندھن کے درآمدی بل میں کمی اور ماحولیاتی آلودگی پر قابو پایا جا سکے۔ الیکٹرک ٹرکوں کی درآمد پر ایک فیصد سیلز ٹیکس کی تجویز وفاقی وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت درآمد کیے جانے والے الیکٹرک ٹرکوں پر بھی صرف ایک فیصد سیلز ٹیکس کی سہولت فراہم کرنے کی تجویز دے رہی ہے، جس کا مقصد تجارتی اور مال برداری کے شعبے میں الیکٹرک ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔ مہنگی الیکٹرک گاڑیوں کو رعایت سے باہر رکھنے کا عندیہ وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ دی جانے والی ٹیکس مراعات سے انتہائی مہنگی اور لگژری الیکٹرک گاڑیاں فائدہ نہ اٹھا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی پالیسی کا مقصد عام صارفین اور مقامی صنعت کو سہولت فراہم کرنا ہے، نہ کہ مہنگے درآمدی ماڈلز کو غیر ضروری مراعات دینا۔ وزیر خزانہ کے مطابق حکومت آٹو موبائل سیکٹر کی پائیدار ترقی، مقامی مینوفیکچرنگ کے فروغ اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے استعمال میں اضافے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔ کینسراور دیگرادویات کے 100 سے زیادہ اقسام کے خام مال پر کسٹمز ڈیوٹی مکمل ختم کرنے کی تجویز وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے صحت کے شعبے کے لیے ایک اہم ریلیف پیکیج متعارف کرانے کی تجویز پیش کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو معیاری اور سستی طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے پُرعزم ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ادویات کی مقامی تیاری کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ صحت کی سہولیات کی منصفانہ فراہمی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے حکومت کی وابستگی غیر متزلزل ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کینسر جیسے موذی امراض نہ صرف مریضوں بلکہ ان کے خاندانوں پر بھی شدید مالی اور جذباتی بوجھ ڈال دیتے ہیں، جسے کم کرنے کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ کینسر کے مریضوں کے لیے بڑا ریلیف محمد اورنگزیب نے اعلان کیا کہ حکومت ’نیشنل ٹیرف پالیسی 30-2025 کے تحت کینسر اور دیگر بیماریوں کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات کی مقامی تیاری کے لیے ایک اہم سہولت متعارف کرا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کینسر اور دیگر امراض کی ادویات کی مقامی پیداوار میں استعمال ہونے والی 100 سے زیادہ اقسام کے خام مال پر عائد کسٹمز ڈیوٹی مکمل طور پر ختم کی جا رہی ہے۔
ادویات کی قیمتوں میں کمی کا امکان واضح رہے کہ وزیر خزانہ کے اس اعلان سے ادویات ساز صنعت کی پیداواری لاگت میں کمی آئے گی، جس کے نتیجے میں کینسر سمیت دیگر پیچیدہ بیماریوں کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات کی قیمتوں میں کمی کا امکان پیدا ہوگا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ مقامی سطح پر ادویات کی تیاری کی حوصلہ افزائی سے نہ صرف درآمدی انحصار کم ہوگا بلکہ مریضوں کو نسبتاً کم قیمت پر علاج کی سہولت بھی میسر آ سکے گی۔ جدید علاج کو عام شہریوں کی پہنچ میں لانے کی کوشش وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ اس فیصلے کا بنیادی مقصد ملک بھر کے شہریوں کے لیے جدید، مؤثر اور خصوصی طبی علاج کو زیادہ آسان، سستا اور قابلِ رسائی بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت صحت کے شعبے میں اصلاحات اور سہولتوں کے فروغ کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے تاکہ عوام کو بہتر طبی خدمات فراہم کی جا سکیں اور مہنگے علاج کے باعث خاندانوں پر پڑنے والے مالی بوجھ کو کم کیا جا سکے۔ مقامی فارماسیوٹیکل صنعت کو بھی فائدہ وزیر خزانہ کی اس بجٹ تجویز، خام مال پر کسٹمز ڈیوٹی کے خاتمے سے مقامی فارماسیوٹیکل صنعت کو بھی فائدہ پہنچے گا، جس سے ادویات کی مقامی پیداوار میں اضافہ اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔ بجٹ میں کیے گئے اس اعلان کو صحت کے شعبے، ادویات ساز صنعت اور کینسر سمیت دیگر پیچیدہ امراض میں مبتلا مریضوں کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ بجٹ میں گرانٹس کی مد میں 2 ہزار 680 ارب روپے مختص وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ بجٹ میں گرانٹس کی مد میں 2 ہزار 680 ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ جائیداد کے شعبے میں بھی ٹیکس میں نرمی کی تجاویز دی گئی ہیں۔ فائلرز کے لیے جائیداد کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 2.5 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد، جبکہ جائیداد کی فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس 5.5 فیصد سے کم کرکے 2.75 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ’اسی طرح کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز کے ذریعے بیرون ملک استعمال پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس 5 فیصد سے کم کرکے 0.5 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ غیر ملکی اثاثوں پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس ختم کرنے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہے۔‘ صحت، خواتین اور عوامی ریلیف سے متعلق اقدامات وزیر خزانہ نے کہا کہ خواتین کے استعمال کی سینٹری پیڈز اور متعلقہ اشیا پر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق اشیا پر بھی ٹیکس ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات پر 0.25 فیصد فائنل ٹیکس ریجیم (ایف ٹی آر) کی رعایت مزید تین برس تک جاری رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ سپورٹس ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کے تحت 19 کھیلوں میں ٹیلنٹ کی تلاش جاری ہے، جبکہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ماڈل پر ہاکی لیگ قائم کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پروگرام کا مقصد مستقبل کے جہانگیر خان، ارشد ندیم اور اولمپک چیمپئنز کو تلاش کرنا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ایف بی آر کی سالانہ ٹیکس وصولیاں آئندہ 3 برس میں بڑھ کر 13 ہزار ارب روپے تک پہنچ جائیں گی۔ پروڈکشن مانیٹرنگ نظام 27 سیمنٹ فیکٹریوں اور 75 شوگر ملوں پر نافذ کیا جا چکا ہے، جس سے 61 ارب روپے اضافی ٹیکس وصول ہونے کی توقع ہے۔ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی نظام نے 840 ہائی رسک کیسز کی نشاندہی کی ہے، جس کے نتیجے میں 34 ارب روپے کے ٹیکس اثرات متوقع ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فیس لیس کسٹم اسیسمنٹ کے ذریعے درآمد کنندگان اور کسٹم افسران کے درمیان براہ راست رابطہ کم کیا گیا ہے، جس سے رشوت ستانی کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکسٹائل، مشروبات، آئرن، اسٹیل، گھی، ٹائرز اور پیپر انڈسٹری میں بھی مانیٹرنگ سسٹم نافذ کیا جائے گا۔ ٹیکس چوری اور بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہونے پر جرمانوں کی شرح بڑھانے کا بھی اعلان کیا گیا۔ سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبے وزیر خزانہ نے کہا کہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) میں 39 ہزار نئی کمپنیوں کا اندراج ہوا ہے، جبکہ گوگل، علی بابا گروپ، آرامکو، بی وائی ڈی اور ترک پٹرولیم جیسی عالمی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کے منصوبوں کے لیے 56 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ وزیراعظم کے خصوصی پیکج کے تحت آزاد کشمیر کو 5 ارب اور گلگت بلتستان کو 4 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔ ’کراچی سے چمن تک قومی شاہراہ این-25 کو دو رویہ بنانے کے لیے 100 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ سکھر-حیدرآباد موٹروے کے لیے 30 ارب روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔‘ کراچی، روہڑی ریلوے سیکشن کے ایم ایل ون منصوبے کے لیے 25 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز وزیر خزانہ نے بتایا کہ کراچی، روہڑی ریلوے سیکشن کے ایم ایل ون منصوبے کے لیے 25 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ ’دیامر بھاشا ڈیم کے لیے 14 ارب روپے اور مہمند ڈیم کے لیے 22 ارب روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ کراچی کے پانی کے منصوبے کے فور کے لیے 10 ارب روپے جبکہ داسو ہائیڈرو منصوبے کے لیے 15 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ برآمدات پر ایڈوانس انکم ٹیکس کی شرح 2 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کرنے کی تجویز بھی بجٹ میں شامل کی گئی ہے۔ دفاعی اخراجات کے لیے 3 ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز وزیر خزانہ نے کہاکہ ملکی دفاع حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور دفاعی اخراجات کے لیے 3 ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ پائیدار شہری ترقی اور ہاؤسنگ کے شعبے کے لیے 54 ارب 60 کروڑ روپے مختص وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہاکہ 2035 تک ملک کی قریباً نصف آبادی شہری علاقوں میں آباد ہو چکی ہوگی، جبکہ شہری مراکز پہلے ہی قومی معیشت میں 55 فیصد حصہ ڈال رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بجٹ میں پائیدار شہری ترقی اور ہاؤسنگ کے شعبے کے لیے 54 ارب 60 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، اس فنڈ کے تحت وفاقی اور صوبائی سطح پر ایک لاکھ 50 ہزار کم لاگت رہائشی یونٹس تعمیر کیے جائیں گے، جبکہ ملک کے 10 بڑے شہروں کے لیے ڈیجیٹل ماسٹر پلانز بھی تیار کیے جائیں گے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور قانون و انصاف ڈویژن وزیر خزانہ نے کہاکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لیے 838 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے۔
چھوٹے دکانداروں کے لیے فکسڈ ٹیکس سسٹم متعارف کرانے کی تجویز وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے وفاقی بجٹ 27-2026 پیش کرتے ہوئے چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کے لیے ایک نیا اور آسان ‘فکسڈ ٹیکس سسٹم’ متعارف کرانے کی تجویز پیش کی ہے۔ حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد ٹیکس نظام کو سادہ بنانا، رضاکارانہ ٹیکس ادائیگی کی حوصلہ افزائی کرنا اور چھوٹے کاروباروں کو غیر ضروری پیچیدگیوں سے بچانا ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ یہ تجویز انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 1993 کے تحت دی جا رہی ہے۔ کن دکانداروں کو فائدہ ملے گا؟ مجوزہ نظام کے تحت وہ دکاندار اور چھوٹے کاروباری حضرات اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکیں گے جن کی سالانہ فروخت 5 کروڑ روپے یا اس سے کم ہو۔ اس اسکیم میں شامل ہونے والے دکاندار اپنی سالانہ فروخت کا صرف ایک فیصد ٹیکس ادا کریں گے، جبکہ وہ پہلے سے کٹوتی شدہ ود ہولڈنگ ٹیکس کو بھی اپنے واجب الادا ٹیکس میں ایڈجسٹ کر سکیں گے۔ تاہم گوشوارہ جمع کراتے وقت کم از کم 25 ہزار روپے ٹیکس جمع کرانا لازمی ہوگا۔ معمول کے آڈٹ اور اضافی ذمہ داریوں سے استثنیٰ وزیر خزانہ کے مطابق اس اسکیم میں شامل تاجروں کو متعدد انتظامی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ فکسڈ ٹیکس سسٹم اختیار کرنے والے دکانداروں کا معمول کے مطابق آڈٹ نہیں کیا جائے گا، جبکہ خریداری کے وقت ود ہولڈنگ ٹیکس کی کٹوتی اور جمع کرانے کی ذمہ داری بھی ان پر عائد نہیں ہوگی۔ اسی طرح انہیں ‘پوائنٹ آف سیل‘ (پی او ایس) مشین نصب کرنے کی شرط سے بھی استثنا حاصل ہوگا۔ سبز سرٹیفکیٹ اور کیو آر کوڈ کا اجرا حکومت نے اس اسکیم کے تحت رجسٹرڈ دکانداروں کے لیے ایک منفرد شناختی نظام بھی تجویز کیا ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ فکسڈ ٹیکس سسٹم کا انتخاب کرنے والے ہر دکاندار کو سبز رنگ کا ایک خصوصی سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا، جس پر تصدیقی کیو آر کوڈ درج ہوگا۔ اس اسکیم میں شامل ہونے والے دکاندار اپنی سالانہ فروخت کا صرف ایک فیصد ٹیکس ادا کریں گے، جبکہ وہ پہلے سے کٹوتی شدہ ود ہولڈنگ ٹیکس کو بھی اپنے واجب الادا ٹیکس میں ایڈجسٹ کر سکیں گے۔ تاہم گوشوارہ جمع کراتے وقت کم از کم 25 ہزار روپے ٹیکس جمع کرانا لازمی ہوگا۔ معمول کے آڈٹ اور اضافی ذمہ داریوں سے استثنیٰ وزیر خزانہ کے مطابق اس اسکیم میں شامل تاجروں کو متعدد انتظامی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ فکسڈ ٹیکس سسٹم اختیار کرنے والے دکانداروں کا معمول کے مطابق آڈٹ نہیں کیا جائے گا، جبکہ خریداری کے وقت ود ہولڈنگ ٹیکس کی کٹوتی اور جمع کرانے کی ذمہ داری بھی ان پر عائد نہیں ہوگی۔ اسی طرح انہیں ‘پوائنٹ آف سیل‘ (پی او ایس) مشین نصب کرنے کی شرط سے بھی استثنا حاصل ہوگا۔ سبز سرٹیفکیٹ اور کیو آر کوڈ کا اجرا حکومت نے اس اسکیم کے تحت رجسٹرڈ دکانداروں کے لیے ایک منفرد شناختی نظام بھی تجویز کیا ہے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ فکسڈ ٹیکس سسٹم کا انتخاب کرنے والے ہر دکاندار کو سبز رنگ کا ایک خصوصی سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا، جس پر تصدیقی کیو آر کوڈ درج ہوگا۔