Breaking News

معاہدے کا مطلب یہ نہیں جرائم کو معاف یا بھلا دیا جائے گا۔اسماعیل بقائی

معاہدے کا مطلب یہ نہیں جرائم کو معاف یا بھلا دیا جائے گا۔اسماعیل بقائی
۴۰ سیکنڈ پہلے

ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، تاہم معاہدے کا مطلب یہ نہیں کہ جرائم کو معاف یا بھلا دیا جائے گا۔

 

تہران میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران اپنے عوام پر اسرائیلی اور امریکی مظالم کو نہیں بھولے گا۔ ایران یہ بھی نہیں بھولے گا کہ اس نے اپنی بڑی قیادت کھوئی، لیکن عوام اپنی قیادت کے ساتھ کھڑے رہے۔

 

انہوں نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر جمعے کو جنیوا میں دستخط کیے جائیں گے۔ اس سے قبل ایرانی حکام مختلف پڑوسی ممالک کے دورے بھی کریں گے۔

 

ترجمان نے کہا کہ عالمی ادارے ایران پر امریکا اور اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ لبنان کے خلاف جارحیت کا خاتمہ بھی اس مفاہمتی یادداشت کا حصہ ہے، اور لبنان کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کا احترام ضروری ہے۔

 

اسماعیل بقائی نے کہا کہ 110 روزہ جنگ کے دوران ایرانی عوام نے اپنی حکومت اور مسلح افواج کا بھرپور ساتھ دیا اور بے مثال استقامت کا مظاہرہ کیا۔

 

انہھوں نے ایرانی عوام کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنی قیادت، فوجی کمانڈرز اور عام شہریوں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گا۔

 

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے اسرائیل پر لبنان اور فلسطین میں جارحیت جاری رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارے صہیونی ریاست کی کارروائیاں رکوانے اور ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی حملوں کی مذمت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

 

ان کے بقول ایران کے بیرون ملک منجمد اثاثوں کی بحالی و واپسی اور جنگی نقصانات کا معاوضہ مذاکرات کا اہم حصہ ہیں اور ایران کو یہ مطالبات کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔

 

اسماعیل بقائی نے بتایا کہ امریکا کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں لبنان سے متعلق نکات بھی شامل ہیں جبکہ لبنان کی خودمختاری اور سلامتی کا احترام یقینی بنایا جائے گا۔

 

انہوں نے الزام عائد کیا کہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل لبنان میں حملے جاری رکھے ہوئے ہے جس کے باعث معاہدے پر عمل درآمد کی صورتحال کا بغور جائزہ لیا جائے گا۔

 

ایرانی ترجمان نے مزید کہا کہ عمان کی معاونت سے آبنائے ہرمز میں بحری گزرگاہ کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے اور دیگر متعلقہ فریقوں سے بھی مشاورت ہوگی۔

 

انہوں نے واضح کیا کہ ایران ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے کسی قسم کا ٹول وصول نہیں کیا جائے گا۔

 

اسماعیل بقائی کے بقول مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے طریقہ کار کو آج یا کل حتمی شکل دے دی جائے گی، جس کے بعد اس کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔

 

انھوں نے مزید کہا کہ امریکا کو ایرانی عوام کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنے کے لیے ابھی ایک طویل سفر طے کرنا ہوگا تاہم ایران ہر صورت معاہدے کی پاسداری کرے گا۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں