Breaking News

اپنی شدید مخالف پی ٹی آئی کے ساتھ کافی فاصلے کم کر چکا ہوں۔ فضل الرحمان

اپنی شدید مخالف پی ٹی آئی  کے ساتھ کافی فاصلے کم کر چکا ہوں۔ فضل الرحمان
۱ منٹ پہلے

جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ وہ اپنی شدید مخالف جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ کافی فاصلے کم کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت ان کیمرہ اجلاس اس وجہ سے نہیں بلا رہی کہ پی ٹی آئی احتجاج کرے گی تو اس کی وہ گارنٹی دیتے ہیں۔

 

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی تقاریر کا بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے اور سرکاری ٹی وی پر اپوزیشن کا مؤقف پیش نہیں کیا جاتا، حالانکہ پارلیمنٹ میں تمام اراکین کے مساوی حقوق ہیں۔

 

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ محمود اچکزئی اپوزیشن لیڈر ہیں، انہوں نے ووٹ نہیں مانگا مگر انہیں سپورٹ کیا گیا۔ وزیراعظم نے میثاق جمہوریت کی بات کی، جسے وہ بھی متفقہ معاہدہ سمجھتے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ پہلے طے ہوا تھا کہ ایک دوسرے کی حکومت نہیں گرائیں گے، اور آج جو رہنما جیل میں ہیں، وہ باہر آ جائیں تو سیاست جاری رہے گی۔

 

مولانا نے کہا کہ شہباز شریف ماضی میں ان کے ساتھ کنٹینر پر ہوا کرتے تھے اور معیشت بہتر کرنے کے دعوے کرتے تھے، مگر آج ملک پر قرض بڑھ گیا ہے اور ہر شہری لاکھوں روپے کا مقروض ہے۔

 

آئینی معاملات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 28ویں ترمیم کی باتیں ہو رہی ہیں جبکہ 18ویں ترمیم کو ختم کرنے کی کوششیں بھی زیرِ بحث ہیں، جس پر صوبائی حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ بجٹ روایتی انداز میں پیش کیا گیا اور حکومت اسے کامیاب قرار دے رہی ہے، مگر زمینی حقائق مختلف ہیں۔

 

مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ سود کے خاتمے کے لیے قانون سازی کے باوجود پیش رفت نہیں ہوئی، اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔

 

انہوں نے کشمیر کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کے مطالبات پر بات چیت ضروری ہے اور تشدد کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔

 

انہوں نے کہا کہ ان کے علما کو جمہوریت اور آئینی سیاست کی حمایت کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ صوبوں کے مالی حقوق اور این ایف سی ایوارڈ کے وعدوں پر بھی مکمل عملدرآمد نہیں ہوا۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں