معاہدے کے بعد عالمی منڈی میں تیل سستا،سٹاک مارکیٹس میں تیزی
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی جبکہ ایشیائی سٹاک مارکیٹس میں نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے، جس کی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والا امن معاہدہ قرار دیا جا رہا ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں 2.3 فیصد کمی ہوئی ہے جس کے بعد یہ تقریباً 77.73 ڈالر فی بیرل پر آ گئی ہے، جو گزشتہ روز کی سطح کے قریب ہے۔ اس سے قبل خطے میں کشیدگی کے باعث قیمتیں 81 ڈالر فی بیرل سے بھی اوپر چلی گئی تھیں۔
ادھر ایشیا کی اسٹاک مارکیٹس نے بھی معاہدے پر مثبت ردعمل دیا ہے۔ جاپان کا نکئی 225 اور جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس ریکارڈ سطح کے قریب پہنچ گئے، جہاں بالترتیب 2 فیصد اور 1.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
تائیوان کی مارکیٹ میں 1.3 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 1.7 فیصد کمی کا شکار رہا۔ امریکی اسٹاک فیوچرز میں بھی بہتری دیکھی گئی اور 1.3 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کھولنے اور بحری پابندیاں ختم کرنے سے متعلق اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، تاہم شپنگ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ صورتحال اب بھی مکمل طور پر واضح نہیں اور رسک موجود ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق حالیہ بحران کے دوران عالمی منڈی میں روزانہ تقریباً 14 ملین بیرل تیل کی سپلائی متاثر ہوئی تھی۔
معاہدے کو مارکیٹس نے وقتی طور پر مثبت پیش رفت قرار دیا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق مکمل معاشی استحکام کے لیے مزید وقت درکار ہوگا۔