Breaking News

زمین کی طرف گرنے والی رصدگاہ کو بچانے کے لیے ناسا کا ہنگامی ریسکیو مشن

زمین کی طرف گرنے والی رصدگاہ کو بچانے کے لیے ناسا کا ہنگامی ریسکیو مشن
۸ منٹ پہلے

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا نے خلا میں موجود اپنی ایک اہم رصدگاہ کو تباہ ہونے سے بچانے کے لیے ایک غیر معمولی ہنگامی مشن کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔

 

میڈیا رپورٹس کے مطابق 2004 میں خلا میں بھیجی گئی سویفٹ گاما رے آبزرویٹری تیزی سے زمین کی طرف اپنی مدار سے نیچے آ رہی ہے۔ اس کا مدار جو پہلے تقریباً 600 کلومیٹر تھا، کم ہو کر اب تقریباً 370 کلومیٹر رہ گیا ہے، جس کے باعث خدشہ ہے کہ یہ خلائی دوربین 2026 کے اختتام سے پہلے زمین کے ماحول میں داخل ہو کر جل سکتی ہے۔

 

سائنسدانوں کے مطابق یہ دوربین ستاروں کے دھماکوں، گاما ریز، ایکس ریز اور الٹرا وائلٹ شعاعوں کا مشاہدہ کرنے کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے، اور اس کی ممکنہ تباہی کائناتی تحقیق کے لیے ایک بڑا نقصان ہوگا۔

 

ماہرین کا کہنا ہے کہ سورج کے 11 سالہ چکر کے شدید مرحلے (سولر میکسیمم) کی وجہ سے زمین کی بالائی فضا میں توسیع ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں بڑھنے والی رگڑ نے اس خلائی دوربین کے مدار کو مزید نیچے دھکیل دیا ہے، حالانکہ اسے 2030 تک فعال رہنا تھا۔

 

اس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ناسا نے ایک اسٹارٹ اپ کمپنی کیٹالسٹ اسپیس ٹیکنالوجیز کو 30 ملین ڈالر کا معاہدہ دیا ہے، جس نے صرف 7 ماہ میں ایک خصوصی ریسکیو خلائی جہاز تیار کیا ہے۔

 

یہ تقریباً 400 کلوگرام وزنی خلائی جہاز پیگاسس ایکس ایل راکٹ کے ذریعے خلا میں بھیجا جائے گا۔ اس میں نصب تین روبوٹک بازو سویفٹ دوربین کو پکڑ کر اس کی پوزیشن درست کریں گے۔

 

منصوبے کے مطابق یہ ریسکیو مشن اگلے 6 ہفتوں میں آہستہ آہستہ سویفٹ ٹیلی اسکوپ کو دوبارہ اس کے محفوظ 600 کلومیٹر والے مدار میں لے جائے گا۔

 

سائنسدانوں کے مطابق سویفٹ ٹیلی اسکوپ اپنی تیز رفتار ردعمل کی صلاحیت کی وجہ سے منفرد حیثیت رکھتی ہے، جو گاما رے دھماکے کی نشاندہی کے صرف 2 منٹ کے اندر مشاہدہ شروع کر سکتی ہے۔

 

اپنے 20 سالہ مشن کے دوران اس دوربین نے کائنات کے متعدد اہم واقعات ریکارڈ کیے ہیں، جن میں 2022 میں ریکارڈ ہونے والا انتہائی روشن کائناتی دھماکہ بھی شامل ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں