خیبرپختونخوا فنانس بل: متعدد ٹیکس برقرار، اہم ٹیکس اصلاحات اور بڑے مالی اہداف کی تجویز
خیبرپختونخوا حکومت کے آئندہ مالی سال کے فنانس بل کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جس میں متعدد موجودہ ٹیکسز کو برقرار رکھنے، بعض اہم ٹیکسوں میں ترامیم کرنے اور مختلف شعبوں میں نئی مالی پالیسیوں کی تجاویز شامل ہیں۔ بجٹ میں مجموعی اخراجات، محصولات، ترقیاتی منصوبوں اور ٹیکس مراعات سے متعلق جامع فریم ورک بھی پیش کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق تمام رہائشی جائیدادوں کے بقایا جات کی یکمشت ادائیگی پر 30 فیصد رعایت دینے کی تجویز دی گئی ہے، تاہم یہ سہولت صرف 30 جون 2026 تک ادائیگی کرنے والوں کے لیے ہوگی۔ اس کے بعد 31 دسمبر 2026 تک واجبات ادا نہ کرنے والوں پر جرمانے عائد کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی ایک اور شق کے تحت بعض ٹیکس واجبات کی یکمشت ادائیگی پر 20 فیصد رعایت دینے کی بھی تجویز شامل ہے۔
ٹرانسپورٹ سیکٹر کے لیے فنانس بل میں موٹر رکشہ اور ٹرائی ویلرز پر سالانہ ایک ہزار روپے ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح 6 سے 15 نشستوں والی کمرشل گاڑیوں پر فی نشست 400 روپے اور 15 سے زائد نشستوں والی گاڑیوں پر فی نشست 500 روپے سالانہ ٹیکس وصول کرنے کی تجویز شامل ہے، جس کا مقصد ٹرانسپورٹ شعبے سے ریونیو میں اضافہ کرنا بتایا گیا ہے۔
ہوٹل انڈسٹری سے متعلق بھی نئے ٹیکس ڈھانچے کی تجویز دی گئی ہے۔ پوائنٹ آف سیل (POS) سسٹم سے منسلک ہوٹلوں سے کمروں اور بکنگ پر 5 فیصد ٹیکس وصول کیا جائے گا، جبکہ جن ہوٹلوں میں POS سسٹم موجود نہیں ہوگا ان سے دستیاب رہائشی یونٹس کے 50 فیصد کو بنیاد بنا کر حقیقی کمرہ کرائے کے 10 فیصد کے حساب سے ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ اس اقدام کو صوبے میں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے مجموعی اخراجات 2170 ارب روپے سے زائد رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ان میں جاری اخراجات کے لیے 1645 ارب 70 کروڑ 80 لاکھ روپے اور ترقیاتی اخراجات کے لیے 524 ارب 29 کروڑ 20 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز شامل ہے۔
آمدنی کے حوالے سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ صوبے کو وفاقی ٹیکس محصولات کی مد میں 1584 ارب روپے سے زائد حاصل ہوں گے۔ اس میں سے 1540 ارب روپے سے زائد عام وفاقی ٹیکس شیئر سے ملنے کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے 149 ارب روپے سے زائد، تیل و گیس سرچارج کی مد میں 53 ارب روپے سے زائد، جبکہ ونڈ فال لیوی آن آئل کی مد میں 24 ارب روپے سے زائد آمدن متوقع ہے۔
ترقیاتی پروگرام کے لیے 524 ارب روپے سے زائد مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جسے صوبے میں بنیادی ڈھانچے، سماجی شعبے اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق بجٹ میں نئے ٹیکس عائد نہیں کیے گئے تاہم موجودہ نظام میں اصلاحات اور بعض شرحوں میں ردوبدل تجویز کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافے اور کنوینس الاؤنس میں بہتری کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہے۔ اسی طرح ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو متحرک کرنے کے لیے پراپرٹی ٹیکس میں کمی کی تجویز بھی زیر غور ہے تاکہ جائیداد کی خرید و فروخت میں بہتری لائی جا سکے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق صوبائی حکومت کا مجموعی مالی حجم 2170 ارب روپے سے تجاوز کرے گا، جبکہ ترقیاتی اور جاری اخراجات کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
سیاسی سطح پر بھی بجٹ پر ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ پی ٹی آئی کے بعض ناراض اراکین نے بجٹ دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے علیحدہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان اراکین نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ بجٹ کے حق یا مخالفت کا فیصلہ پارٹی قیادت اور بانی چیئرمین کی پالیسی کے مطابق کریں گے۔ بعض اراکین نے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔