وفاق کو کسی قسم کی گرانٹ نہیں دی جائے گی۔شفیع جان
خیبر پختونخوا کے وزیرِ اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے خسارے کا بجٹ پیش کیا ہے اور وفاق کو کسی قسم کی گرانٹ نہیں دی جائے گی۔ ان کا مؤقف تھا کہ گرانٹ اِن ایڈ کا معاملہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ملاقات سے مشروط کیا جا رہا ہے۔
پشاور میں مشیر خزانہ مزمل اسلم کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ وفاق سے زیادہ لوگ خیبر پختونخوا کے بجٹ کے منتظر تھے اور صوبے کا موجودہ بجٹ تاریخی نوعیت کا حامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں صرف تین ماہ کا بجٹ پیش کرنے پر غور کیا گیا تھا لیکن قانونی پیچیدگیوں کے باعث مکمل بجٹ پیش کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب تک بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں ہوتی صوبائی حکومت مالی کٹوتی قبول نہیں کرے گی۔ ان کے مطابق گزشتہ سات ماہ سے بانی پی ٹی آئی کی اہلِ خانہ سے بھی ملاقات نہیں ہوئی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ملاقات بھی کرائی جانی چاہیے۔
اس موقع پر مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے وفاق سے درخواست کی تھی کہ اہم فیصلوں سے قبل بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کا موقع دیا جائے۔
مزمل اسلم نے کہا کہ رانا ثنااللہ کا یہ بیان درست نہیں کہ تمام صوبے وفاق کو رقم دیں گے۔ ان کے مطابق قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ہی وسائل کی تقسیم کا قانونی فورم ہے، جبکہ نیشنل اکنامک کونسل اس مقصد کے لیے متعلقہ فورم نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایف بی آر 5 ہزار 260 ارب روپے جمع کرے گا تو وہ رقم صوبوں میں تقسیم کی جائے گی اور وفاق صوبوں کے حصے میں کٹوتی نہیں کر سکتا، اس کے لیے آئینی یا قانونی ترمیم درکار ہوگی۔
مشیر خزانہ کے مطابق ضم شدہ اضلاع کے بجٹ میں 121 ارب روپے کا خسارہ موجود ہے جبکہ صوبائی بجٹ کا بڑا حصہ تنخواہوں پر خرچ ہوتا ہے۔ تعلیم، صحت اور پولیس کو ترجیحی شعبے قرار دیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ صحت کارڈ کے لیے 125 ارب روپے، پولیس خریداری کے لیے ساڑھے 14 ارب روپے اور بی آر ٹی کے لیے 6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
مزمل اسلم نے کہا کہ بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے والے ذہین طلبہ کے لیے 20 ارب روپے کے بلاسود قرضے رکھے گئے ہیں جبکہ پورے پشاور میں عوامی مفت وائی فائی کی سہولت کے لیے 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے اور نجی شعبے سے بھی اس پر عملدرآمد کی توقع ہے۔