Sports

ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی ٹیموں کو الگ کرنا ناگزیر ہے،عاقب جاوید

ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی ٹیموں کو الگ کرنا ناگزیر ہے،عاقب جاوید
۲ گھنٹے پہلے

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید نے کہا ہے کہ سینٹرل کنٹریکٹ کو فارمیٹ وائز تقسیم کرنا دراصل ہر فارمیٹ کی الگ ٹیم بنانے کی طرف پہلا قدم ہے، اور مستقبل میں ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کی ٹیمیں الگ الگ بھی ہو سکتی ہیں۔

 

لاہور میں گفتگو کرتے ہوئے عاقب جاوید نے واضح کیا کہ فوری طور پر ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی ٹیموں کو الگ کرنا ناگزیر ہے کیونکہ دونوں فارمیٹس ایک ساتھ مؤثر انداز میں نہیں چل سکتے۔ ان کے مطابق اب کرکٹ کو اسی بنیاد پر آگے بڑھایا جا رہا ہے کہ ہر فارمیٹ کے لیے مخصوص کھلاڑی تیار کیے جائیں۔

 

انہوں نے کہا کہ پہلے سینٹرل کنٹریکٹ میں ایک بڑی خامی یہ تھی کہ صرف ٹیسٹ کھیلنے والے کھلاڑیوں کا موازنہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹرز سے کیا جاتا تھا، جس سے کئی کھلاڑیوں کے ساتھ ناانصافی ہوتی تھی۔ اب نیا نظام اس بات کو یقینی بنائے گا کہ کھلاڑی کا تقابل صرف اسی فارمیٹ کے کھلاڑی سے ہوگا جس میں وہ کھیل رہا ہے، اور اسی بنیاد پر اس کی تنخواہ اور درجہ بندی طے ہوگی۔

 

عاقب جاوید کے مطابق ٹیسٹ کرکٹ کے بہترین پرفارمرز کو پہلے درجے میں 40 لاکھ روپے ماہانہ ملیں گے، جبکہ کم کارکردگی دکھانے والوں کو 30 سے 35 لاکھ روپے تک دیے جائیں گے۔ اسی طرح ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کیٹیگریز میں بھی معاوضہ کارکردگی کی بنیاد پر مختلف ہوگا، اور ٹیسٹ و ون ڈے کھلاڑیوں کی مجموعی آمدن 48 لاکھ روپے تک جا سکتی ہے۔

 

انہوں نے بتایا کہ نئے کنٹریکٹ سسٹم میں اہلیت کے لیے بھی واضح شرائط رکھی گئی ہیں، جن کے مطابق ٹیسٹ کیٹیگری کے لیے کم از کم 6 فرسٹ کلاس میچز ضروری ہوں گے، جبکہ ٹیسٹ اور ون ڈے کی مشترکہ کیٹیگری کے لیے 4 فرسٹ کلاس اور 4 لسٹ اے میچز لازمی ہوں گے۔ اسی طرح ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کیٹیگری کے لیے کم از کم 2 لسٹ اے اور 10 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلنا ضروری ہوں گے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ مختلف فارمیٹس کے کھلاڑیوں کے لیے این او سی پالیسی بھی الگ ہوگی، جس کے تحت ٹیسٹ کھلاڑیوں کو بیرون ملک 4 روزہ مقابلوں کے لیے این او سی ملے گا، جبکہ کچھ کیٹیگریز کو فرنچائز کرکٹ کھیلنے کی بھی اجازت ہوگی۔

 

عاقب جاوید نے زور دیا کہ اس نئے نظام کا مقصد کھلاڑیوں کو ایک ہی فارمیٹ پر مکمل توجہ دینے پر مجبور کرنا ہے۔ ان کے مطابق یہ ممکن نہیں کہ کوئی کھلاڑی سالوں تک ٹی ٹوئنٹی کھیلنے کے بعد اچانک ٹیسٹ کرکٹ میں آ جائے اور اسی سطح کی کارکردگی دکھائے۔

 

انہوں نے کہا کہ سب سے اہم کیٹیگری ڈی ہوگی، جس میں 16 سے 20 کھلاڑی شامل ہوں گے اور انہیں شروع سے ہی مخصوص فارمیٹ کے مطابق تیار کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں تبدیلیاں ناگزیر ہیں، لیکن کنٹریکٹ سسٹم کا اصل مقصد کھلاڑیوں سے مکمل کمٹمنٹ لینا ہے، یعنی وہ انٹرنیشنل اور ڈومیسٹک دونوں سطح پر فعال رہیں۔

 

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کوئی کھلاڑی اپنے فارمیٹ کے مطابق ڈومیسٹک کرکٹ نہیں کھیلتا تو اس کا کنٹریکٹ روک دیا جائے گا یا ہولڈ پر چلا جائے گا، تاہم ضرورت پڑنے پر کسی بھی فارمیٹ کا کھلاڑی ٹیم میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں