آزاد کشمیرمیں تمام واقعات منصوبہ بندی سے کئے گئے،آئی جی
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انسپکٹر جنرل پولیس کیپٹن (ر) لیاقت اعوان نے پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ حالیہ بدامنی کے واقعات کے نتیجے میں پولیس کے 4 اہلکار شہید جبکہ 97 زخمی ہوئے ہیں، اور اب تک 572 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی پولیس نے دعویٰ کیا کہ یہ تمام واقعات منصوبہ بندی کے تحت پیش آئے۔ ان کے مطابق بعض مقامات پر لاشوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا، مجمع اکٹھا کیا گیا اور لوگوں کو مشتعل کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ راولاکوٹ کے اسپتال میں تعینات پولیس اہلکاروں کو اغوا کیا گیا، بعد ازاں سب انسپکٹر عنایت اور سپاہیوں فہیم اور فیصل کو قتل کر کے ان کی لاشوں کی بے حرمتی بھی کی گئی۔
آئی جی کے مطابق 9 اور 12 تاریخ کو سرکاری گاڑیوں پر فائرنگ کے واقعات بھی پیش آئے اور اسلحے سے بھری ایک گاڑی روکنے پر پولیس اہلکاروں پر تشدد کیا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اے ایس آئی جاوید کو روک کر ان کا شناختی کارڈ چیک کیا گیا اور بعد ازاں انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ان کی دونوں ٹانگیں متاثر ہوئیں۔
لیاقت اعوان کے مطابق گرفتار افراد کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے جبکہ سابقہ مقدمات بھی دوبارہ فعال کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کے اغوا، گاڑیوں پر حملوں اور اسپتالوں میں پیش آنے والے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ چند عناصر کسی مخصوص ایجنڈے کے تحت سرگرم تھے۔