لتھوانیا کی وزیرِ اعظم اینگا روگینن مستعفی، سیاسی بحران میں شدت
لتھوانیا کی وزیرِ اعظم Inga Ruginienė نے وزارتِ عظمیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، جس کے بعد ملک میں سیاسی صورتحال مزید غیر یقینی کا شکار ہو گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے منگل کے روز اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا۔ گزشتہ روز برطانیہ کے وزیرِ اعظم کے استعفے کے بعد یہ ایک اور اہم سیاسی پیش رفت ہے۔
اپنی کابینہ کے آخری اجلاس کے دوران الوداعی خطاب میں اینگا روگینن نے کہا کہ یہ ایک مشکل دن ہے۔ انہوں نے حالیہ مہینوں میں حکومت کو درپیش چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس عرصے میں کئی مشکل فیصلے کیے گئے۔
رپورٹس کے مطابق انہوں نے اپنی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث استعفیٰ دیا۔ ان کا استعفیٰ حکومتی اتحاد کے جزوی طور پر ٹوٹنے کے بعد سامنے آیا ہے، اور وہ ایک سال سے بھی کم مدت تک وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز رہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ قدم ملک کو ایک نئے سیاسی دوراہے پر لے آیا ہے اور لتھوانیا کے سیاسی منظرنامے میں عدم استحکام کو نمایاں کرتا ہے۔
بلومبرگ نیوز کے مطابق امکان ہے کہ جونوا شہر کے 42 سالہ میئر مینڈوجس سنکیویکس نئے وزیرِ اعظم بن سکتے ہیں۔