یکم جولائی سے بارشوں کاامکان،گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کا الرٹ
محکمۂ موسمیات نے ملک میں مون سون بارشوں کے نئے سلسلے کے آغاز کا امکان ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یکم جولائی سے بارشوں کا باقاعدہ سلسلہ شروع ہو سکتا ہے، جس کے ابتدائی اثرات شمال مشرقی پنجاب، کشمیر اور شمالی علاقوں میں دیکھے جانے کی توقع ہے۔
محکمۂ موسمیات کے ترجمان انجم نذیر کے مطابق مون سون ہوائیں پہلے مرحلے میں شمال مشرقی پنجاب اور کشمیر کو متاثر کریں گی، جبکہ یکم جولائی سے پنجاب کے شمالی اور شمال مشرقی علاقوں میں بارشوں کا آغاز متوقع ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ سندھ میں فی الحال مون سون کے آغاز کے امکانات محدود ہیں اور 5 جولائی تک نمایاں بارشوں کی توقع نہیں کی جا رہی۔
کراچی اور سندھ کے دیگر علاقوں کے حوالے سے محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ خلیجِ بنگال میں بننے والا کم دباؤ کا نظام آئندہ دنوں میں سندھ تک پہنچ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں بارشوں کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
محکمۂ موسمیات کے مطابق رواں مون سون موسم کے دوران کراچی سمیت سندھ کے کئی علاقوں میں معمول سے کم بارشیں ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ بھارت میں بھی جون کے دوران معمول سے 43 فیصد کم بارشیں ریکارڈ کی گئی ہیں، جس کا علاقائی موسمی نظام پر اثر پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے بالائی اضلاع کے لیے گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔ اتھارٹی کے مطابق درجۂ حرارت میں اضافے اور شدید گرمی کے باعث گلیشیئر تیزی سے پگھل سکتے ہیں۔
پی ڈی ایم اے نے اپر چترال، لوئر چترال، سوات، اپر دیر، کوہستان اور مانسہرہ کی ضلعی انتظامیہ کو پیشگی اقدامات اور نگرانی کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق حساس گلیشیائی علاقوں میں مسلسل نگرانی، امدادی مشینری کی دستیابی اور ہنگامی عملے کو ہر وقت تیار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔