جنوبی ایشیا میں بیرونی قرضے؛ بھارت پہلے،پاکستان دوسرے نمبر پر
مالی سال 2026 کی رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا کے بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبے پہلے آٹھ ممالک میں بھارت سرفہرست جبکہ پاکستان دوسرے نمبر پر موجود ہے۔ رپورٹ میں خطے کے ممالک کے مجموعی بیرونی قرضے اور فی شہری قرض کے تخمینے پیش کیے گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق بھارت پر مجموعی بیرونی قرضہ 765 ارب ڈالر ہے، جبکہ فی بھارتی شہری تقریباً 535 ڈالر قرض کا بوجھ ہے۔
پاکستان اس فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے، جہاں مجموعی بیرونی قرضہ 138 ارب ڈالر بتایا گیا ہے جبکہ فی پاکستانی شہری تقریباً 530 ڈالر قرض کا بوجھ ہے۔
بنگلا دیش تیسرے نمبر پر موجود ہے، جس پر 102 ارب ڈالر بیرونی قرضہ ہے، جبکہ وہاں ہر شہری اوسطاً 590 ڈالر کا مقروض قرار دیا گیا ہے۔
سری لنکا چوتھے نمبر پر ہے، جہاں مجموعی بیرونی قرضہ 57 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے اور فی شہری قرض کا حجم 2590 ڈالر بتایا گیا ہے۔
فہرست میں نیپال پانچویں نمبر پر شامل ہے، جس کا مجموعی بیرونی قرضہ 11 ارب ڈالر ہے جبکہ فی شہری قرض 370 ڈالر کے برابر ہے۔
بھوٹان کا بیرونی قرضہ 3 اعشاریہ 5 ارب ڈالر بتایا گیا ہے، تاہم آبادی کے تناسب سے وہاں فی شہری قرض 4400 ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
مالدیپ کا مجموعی بیرونی قرضہ 4 ارب ڈالر ہے، جبکہ ہر شہری پر اوسط قرض 7500 ڈالر بنتا ہے، جو خطے میں فی شہری قرض کی بلند ترین شرحوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
افغانستان اس فہرست میں آٹھویں نمبر پر شامل ہے، جہاں مجموعی بیرونی قرضہ 2 اعشاریہ 5 ارب ڈالر ہے اور فی شہری قرض تقریباً 60 ڈالر بتایا گیا ہے۔