Pakistan

دریائے سندھ کا پانی پاکستان کی لائف لائن ہے، ہر صورت اپنے حقوق کا دفاع کریں گے: بلاول

دریائے سندھ کا پانی پاکستان کی لائف لائن ہے، ہر صورت اپنے حقوق کا دفاع کریں گے:   بلاول
۴۱ منٹ پہلے

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان جنگ نہیں چاہتا لیکن ہر صورت اپنے بنیادی مفادات کا تحفظ کرے گا، جبکہ سندھ طاس معاہدے کی بحالی کے بغیر پاکستان اور بھارت کے درمیان پائیدار امن ممکن نہیں۔

 

اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے سے متعلق سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پانی صرف جغرافیہ نہیں بلکہ خوراک، مستقبل اور زندگی کا سوال ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب نے دیکھا کہ آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت کو متاثر کیا۔

 

انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کی زندگی کی ضمانت ہے، جبکہ سمندری گزرگاہوں یا آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنا عالمی امن کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ ان کے مطابق دنیا کو احساس ہو چکا ہے کہ پانی کے وسائل عالمی سیاست اور سلامتی کا مرکزی مسئلہ بن چکے ہیں۔

 

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی بحالی کے بغیر پاکستان اور بھارت کے درمیان پائیدار امن ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو پانی کو ہتھیار بنانے کے خطرے کی سنگینی کو سمجھنا ہوگا کیونکہ اکیسویں صدی پانی کی بندش اور آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے خطرات سے دوچار ہو سکتی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو مشترکہ آبی گزرگاہوں کو ہتھیار بنانے کے خلاف نئے بین الاقوامی قوانین وضع کرنا ہوں گے تاکہ مستقبل میں ہر دریا، آبنائے، نہر اور ہر زیریں بہاؤ والا ملک بالادست ریاستوں کے دباؤ کا شکار نہ بنے۔

 

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی نے کہا کہ بھارتی رویہ پوری دنیا کے لیے خطرناک مثال بن سکتا ہے، اسی لیے سندھ طاس معاہدے کا برقرار رہنا ضروری ہے۔ پاکستان اپنے آبی حقوق اور دریائے سندھ پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

 

انہوں نے کہا کہ کسی ملک کی پانی کی فراہمی کو جان بوجھ کر روکنا ایک وجودی حملہ ہے۔ ان کے مطابق بھارت کا مقصد پاکستان کے آبی حقوق کو نقصان پہنچانا ہے۔ اگر پاکستان کے پانی کو روکنا جنگ کے مترادف ہے تو اس کی طرف بڑھنے والا ہر قدم بھی معمول کا معاملہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

 

انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے کسی بھی اقدام کا جواب سیاسی، سفارتی اور قانونی سمیت ہر فورم پر دیا جائے گا۔

 

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان جنگ نہیں چاہتا لیکن ہر صورت اپنے بنیادی مفادات کا تحفظ کرے گا۔ پاکستان کی دفاعی صلاحیت کا مقصد ہی ایسے وجودی خطرات کو روکنا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ بھارت کو یہ تاثر نہیں ملنا چاہیے کہ وہ پاکستان پر دباؤ بڑھاتا رہے اور پاکستان صرف احتجاج تک محدود رہے گا۔ مؤثر دفاع اسی وقت ممکن ہے جب مخالف فریق یہ جان لے کہ سرخ لکیر عبور کرنے کی اسے کیا قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

 

انہوں نے کہا کہ یہ کسی گھبراہٹ یا مہم جوئی کی دعوت نہیں بلکہ یہ وقت سنجیدگی، واضح حکمت عملی اور بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے حقوق کے دفاع کا مطالبہ کرتا ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں