Pakistan

عدالتوں سے انصاف کی توقع نہیں، ہم صرف حقائق ریکارڈ پر لا رہے ہیں: علیمہ خان

عدالتوں سے انصاف کی توقع نہیں، ہم صرف حقائق ریکارڈ پر لا رہے ہیں: علیمہ خان
۱ منٹ پہلے

راولپنڈی میں انسدادِ دہشت گردی عدالت نے چھبیس نومبر کے احتجاج سے متعلق درج مقدمے میں علیمہ خان کے وکیلِ صفائی کی جانب سے دفعہ تین سو بیالیس کے تحت بیان جمع کرانے کے لیے مہلت کی درخواست منظور کرتے ہوئے مزید سماعت تین جولائی تک ملتوی کر دی۔

 

تھانہ صادق آباد میں درج مقدمے میں نامزد علیمہ خان اپنے وکیل فیصل ملک کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئیں۔ وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ سوالنامے کے جوابات کے ساتھ بعض اہم دستاویزات بھی جمع کرانی ہیں، جس پر عدالت نے درخواست منظور کر لی۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر مقدمے میں نامزد تین دیگر ملزمان کے دفعہ تین سو بیالیس کے بیانات بھی طلب کر لیے۔

 

انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے مقدمے کی مزید سماعت تین جولائی تک ملتوی کر دی۔ یاد رہے کہ گزشتہ سماعت پر عدالت نے علیمہ خان کو سینتیس سوالات پر مشتمل سوالنامہ فراہم کیا تھا۔

 

عدالت کے باہر ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ عدالتوں میں صرف کارروائیاں ہو رہی ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ انصاف نہیں ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ صرف تمام مبینہ آئینی اور قانونی خلاف ورزیوں کو ریکارڈ پر لا رہے ہیں۔ ان کے بقول چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترامیم کے بعد عدالتیں حکومتی ماتحت ادارہ بن چکی ہیں۔

 

علیمہ خان نے مزید کہا کہ وزیرِ داخلہ کی جانب سے یہ پیغام دیا گیا کہ عدالت سے دو ہفتوں کی مہلت لے لی جائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیرِ داخلہ نے کہا ہے کہ عدالتوں سے کب سزا یا کب ریلیف ملنا ہے، اس کا فیصلہ وہ کریں گے۔

 

انہوں نے کہا کہ حکام نورین خان کے ذریعے صرف ایک رسمی ملاقات کرانا چاہتے ہیں، جس کے بعد بانیٔ پاکستان تحریکِ انصاف کو دوبارہ چھ ماہ کے لیے قیدِ تنہائی میں رکھا جا سکتا ہے، تاہم ان کا مطالبہ صرف رسمی ملاقات نہیں بلکہ تمام آئینی حقوق کی بحالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

 

علیمہ خان کا کہنا تھا کہ ہر جمہوری ملک میں پُرامن احتجاج آئینی اور قانونی حق ہوتا ہے اور وہ اپنے مؤقف پر پہلے بھی قائم تھے، اب بھی قائم ہیں۔

 

دوسری جانب وکیلِ صفائی فیصل ملک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علیمہ خان کے صفائی کے بیان کے ساتھ متعلقہ دستاویزات اور ریکارڈ بھی جمع کرایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ محسن نقوی، عطا تارڑ اور عظمیٰ بخاری کو بطور گواہ طلب کرنے کے لیے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی جائے گی۔ ان کے مطابق بادی النظر میں علیمہ خان کے خلاف کوئی الزام ثابت نہیں ہوا۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں