Pakistan

پڑھائی کے دوران چھت پر کوئی کام نہیں ہو رہا تھا، خاتون ٹیچر کا دعویٰ

پڑھائی کے دوران چھت پر کوئی کام نہیں ہو رہا تھا، خاتون ٹیچر کا دعویٰ
۱ منٹ پہلے

لاہور کے علاقے کاہنہ میں گھر کی چھت گرنے سے ٹیوشن پڑھنے آئے 14 بچے جاں بحق جبکہ خاتون ٹیچر سمیت 7 افراد زخمی ہو گئے تھے۔ ابتدائی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ حادثے کے وقت چھت پر مرمتی کام جاری تھا، تاہم زیرِ علاج خاتون ٹیچر نے اس دعوے کی تردید کر دی ہے۔

 

ہسپتال میں زیرِ علاج خاتون ٹیچر کے ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا کہ بارش کے باعث چھت سے پانی ٹپکتا تھا، جس کی وجہ سے اس پر ٹائلیں لگوائی گئی تھیں، لیکن انہیں ہرگز اندازہ نہیں تھا کہ چھت گر جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک افسوسناک حادثہ تھا۔

 

خاتون ٹیچر نے بتایا کہ ٹیوشن کے دوران چھت پر کسی قسم کا تعمیراتی یا مرمتی کام نہیں ہو رہا تھا بلکہ چھت پہلے ہی مضبوط کر دی گئی تھی۔ ان کے مطابق اس حوالے سے کیے جانے والے دعوے درست نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مالی وسائل اتنے نہیں تھے کہ نئی چھت ڈلوائی جا سکے۔

 

دوسری جانب پولیس نے ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے واقعے میں گرفتار ملزم کا بیان بھی ریکارڈ کر لیا ہے۔ ملزم نے مؤقف اختیار کیا کہ بارش کے دوران چھت میں رساؤ ہو گیا تھا، جس کے باعث ٹائلیں لگانے کا کام کیا جا رہا تھا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ اس کی اہلیہ گھریلو اخراجات میں تعاون کے لیے بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی تھیں۔

 

زخمی خاتون استاد نے بتایا کہ وہ گزشتہ دو برس سے اسی مقام پر بچوں کو تعلیم دے رہی تھیں، جہاں روزانہ تقریباً 30 سے 35 طلبہ زیرِ تعلیم ہوتے تھے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس افسوسناک حادثے میں ان کی اپنی بیٹی بھی زخمی ہوئی ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں