Pakistan

شاہ اللہ دتہ، سرائے خربوزہ ،سنگجانی میں زمین کی خرید و فروخت پرپابندی غیر قانونی قرار

شاہ اللہ دتہ، سرائے خربوزہ ،سنگجانی میں زمین کی خرید و فروخت پرپابندی غیر قانونی قرار
۱ منٹ پہلے

اسلام آباد ہائیکورٹ نے شاہ اللہ دتہ، سرائے خربوزہ اور سنگجانی میں زمین کی خرید و فروخت اور انتقال پر عائد انتظامی پابندی کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ جسٹس محمد آصف نے فضل عباس نامی شہری کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

 

درخواست گزار کی جانب سے وکیل کاشف علی ملک نے کیس کی پیروی کی۔ عدالت نے قرار دیا کہ جائیدادوں کی رجسٹریشن اور انتقال کے معاملات قانون اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق چلائے جائیں، جبکہ غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کو روکنے کی آڑ میں عام شہریوں کے بنیادی ملکیتی حقوق سلب نہیں کیے جا سکتے۔

 

عدالت نے کہا کہ سی ڈی اے کے خط کی بنیاد پر لگائی گئی عمومی پابندی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، جبکہ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی جانب سے سب رجسٹرار اور ریونیو حکام کو جاری کیے گئے زبانی احکامات بھی ماورائے قانون ہیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ انتظامیہ نے سابقہ عدالتی حکم کی خود تشریح کی، حالانکہ وہ حکم صرف غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کی تعمیرات اور خرید و فروخت روکنے تک محدود تھا۔

 

اسلام آباد ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ انتظامیہ عدالتی احکامات میں انتظامی ہدایات کے ذریعے ردوبدل نہیں کر سکتی۔ عدالت کے مطابق سی ڈی اے آرڈیننس 1960 اور اسلام آباد زوننگ ریگولیشنز 1992 ڈپٹی کمشنر کو جائیداد منجمد کرنے کا اختیار نہیں دیتے۔

 

عدالت نے مزید کہا کہ آئین کے تحت شہریوں کے حقوق کو متاثر کرنے والے ہر انتظامی اقدام کے لیے واضح قانونی جواز ضروری ہے۔ زمین کے انتقال پر مکمل پابندی آئین کے آرٹیکل 23 اور 24 کے تحت جائیداد رکھنے اور فروخت کرنے کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے۔

 

فیصلے میں کہا گیا کہ اصل خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے پورے علاقے کے قانون پسند شہریوں پر پابندی عائد کرنا امتیازی سلوک ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کے خلاف کارروائی کے لیے ایسا طریقہ اختیار کیا جانا چاہیے جس سے شہریوں کے حقوق کم سے کم متاثر ہوں۔

 

عدالت نے نوٹ کیا کہ درخواست گزار شاہ اللہ دتہ کے مستقل رہائشی ہیں اور ان کی والدہ گردوں کے عارضے کے باعث اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ جائیداد منجمد ہونے کی وجہ سے وہ اپنی والدہ کے علاج اور مالی معاملات چلانے سے قاصر رہے، جو کہ ناانصافی ہے۔

 

فیصلے میں کہا گیا کہ انتظامیہ نے متاثرہ افراد کو نہ کوئی نوٹس دیا اور نہ ہی انہیں مؤقف پیش کرنے کا موقع فراہم کیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ سی ڈی اے کو غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کے خلاف کارروائی سے نہیں روکتا، بلکہ متعلقہ حکام قانونی طریقہ کار کے مطابق کارروائی کریں۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں