پاکستانی پاسپورٹ بدستور کمزور ترین پاسپورٹس میں شامل،سنگاپور پہلے نمبر پر
عالمی شہرت یافتہ ادارے ہینلے اینڈ پارٹنرز نے جولائی تا دسمبر 2026 کے لیے دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹس کی نئی درجہ بندی جاری کر دی، جس میں ایک بار پھر ایشیائی ممالک نے نمایاں برتری حاصل کی، جبکہ پاکستان کا پاسپورٹ بدستور کمزور ترین پاسپورٹس میں شامل رہا۔
رپورٹ کے مطابق سنگاپور کا پاسپورٹ مسلسل دنیا کا طاقتور ترین پاسپورٹ قرار پایا ہے۔ سنگاپور کے شہری 192 ممالک میں ویزا فری یا ویزا آن ارائیول کی سہولت کے ساتھ سفر کر سکتے ہیں، جس کے باعث وہ بدستور پہلے نمبر پر موجود ہے۔
درجہ بندی میں متحدہ عرب امارات، جاپان اور جنوبی کوریا مشترکہ طور پر دوسرے نمبر پر رہے۔ ان تینوں ممالک کے شہری اپنے پاسپورٹ کے ذریعے 188 ممالک میں ویزا فری یا ویزا آن ارائیول کی سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
تیسرے نمبر پر سویڈن کا پاسپورٹ رہا، جس کے حامل افراد 187 ممالک میں بغیر پیشگی ویزا سفر کر سکتے ہیں۔
چوتھے نمبر پر بیلجیئم، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، آئرلینڈ، اٹلی، لکسمبرگ، نیدرلینڈز، ناروے اورسپین شامل ہیں، جن کے شہری 186 ممالک میں ویزا فری رسائی رکھتے ہیں۔
پانچویں نمبر پر یونان، آسٹریا، مالٹا، پرتگال اور سوئٹزرلینڈ رہے، جہاں کے پاسپورٹ ہولڈرز 185 ممالک میں بغیر ویزا یا ویزا آن ارائیول کی سہولت سے سفر کر سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق درجہ بندی دنیا بھر میں مختلف ممالک کے پاسپورٹس کے ذریعے حاصل ویزا فری اور ویزا آن ارائیول رسائی کی بنیاد پر مرتب کی جاتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی پاسپورٹ اس مرتبہ دسویں نمبر پر آ گیا ہے، حالانکہ ماضی میں اسے دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹس میں شمار کیا جاتا تھا۔
ہینلے اینڈ پارٹنرز کے مطابق گزشتہ دس برسوں میں متحدہ عرب امارات کے پاسپورٹ نے سب سے زیادہ ترقی کی ہے اور عالمی درجہ بندی میں 40 درجوں کی بہتری کے بعد یہ دنیا کا دوسرا طاقتور ترین پاسپورٹ بن گیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کا پاسپورٹ مجموعی طور پر 100ویں نمبر پر برقرار ہے۔ پاکستانی شہری صرف 30 ممالک میں ویزا فری یا آسان ویزا سہولت کے ساتھ سفر کر سکتے ہیں۔
پاکستان کے بعد عراق 101ویں، شام 102ویں جبکہ افغانستان 103ویں نمبر پر موجود ہے، جسے دنیا کا سب سے کمزور پاسپورٹ قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ یمن، صومالیہ، نیپال، شمالی کوریا، بنگلا دیش، فلسطین، ایران، اریٹیریا، سری لنکا اور لیبیا کی درجہ بندی پاکستان سے بہتر رہی۔