ٹرمپ کی نئی پوسٹ،میلونی کے ساتھ تنازع مزید شدت اختیار کر گیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اجلاس سے قبل اٹلی کی وزیرِاعظم جارجیا میلونی کے خلاف ایک اور متنازع سوشل میڈیا پوسٹ شیئر کر دی، جس کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان جاری کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک ترمیم شدہ تصویر شیئر کی، جس میں یہ تاثر دیا گیا کہ جارجیا میلونی ان میں غیر معمولی دلچسپی رکھتی ہیں۔
تصویر کے ساتھ ٹرمپ نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ انہیں میلونی کے خلاف "پابندی کا حکم" (Restraining Order) درکار ہے۔
یہ پوسٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں رہنما ترکی میں ہونے والے نیٹو اجلاس میں دیگر عالمی رہنماؤں کے ہمراہ شرکت کرنے والے ہیں۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان تنازع اس وقت شروع ہوا تھا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ گروپ آف سیون (G7) اجلاس کے دوران جارجیا میلونی نے ان کے ساتھ تصویر بنوانے کی بار بار درخواست کی تھی۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ یورپ نے توانائی اور ہجرت سے متعلق غلط فیصلے کیے ہیں اور اگر یہ مسائل حل نہ ہوئے تو یورپ پہلے جیسا نہیں رہے گا۔
ان بیانات کے بعد اٹلی کے وزیرِ خارجہ انتونیو تاجانی نے واشنگٹن کا طے شدہ دورہ منسوخ کر دیا، جبکہ جارجیا میلونی نے ٹرمپ کے دعوؤں کو "مکمل طور پر من گھڑت" قرار دیتے ہوئے کہا کہ نہ اٹلی اور نہ ہی وہ کبھی کسی سے منت کرتی ہیں۔