Breaking News

بی آئی ایس پی نےانٹرآپریبل ڈیجیٹل والیٹ سسٹم متعارف کرا دیا

بی آئی ایس پی نےانٹرآپریبل ڈیجیٹل والیٹ سسٹم متعارف کرا دیا
۴ منٹ پہلے

پاکستان میں مالیاتی شمولیت کے فروغ کے لیے ایک اہم اقدام کے تحت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) نے انٹرآپریبل ڈیجیٹل والیٹ پیمنٹ سسٹم متعارف کرا دیا ہے۔

 

اس نئے نظام کے تحت ایک کروڑ سے زائد مستحق خاندانوں کی خواتین اب ملک بھر میں کسی بھی پارٹنر بینک کے ریٹیلر یا ایجنٹ سے اپنے وظائف کی رقم حاصل کر سکیں گی اور انہیں کسی ایک مخصوص بینک پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا۔

 

بی آئی ایس پی کے مطابق اس اقدام کو باضابطہ شکل دینے کے لیے 18 جون 2026 کو اسلام آباد میں بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز میں ایک اعلیٰ سطح کی تقریب منعقد ہوئی۔

 

تقریب کی صدارت چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد نے کی، جبکہ اس میں سٹیٹ بینک آف پاکستان، 1LINK، ورلڈ بینک، حبیب بینک لمیٹڈ (HBL)، بینک الفلاح، بینک آف پنجاب، ایچ بی ایل مائیکرو فنانس بینک، ایزی پیسہ اور جاز کیش کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

 

1LINK اور پارٹنر بینکوں کے ساتھ معاہدوں کے تحت اب بی آئی ایس پی کی مالی معاونت براہِ راست مستحق خواتین کے ڈیجیٹل والیٹس میں منتقل کی جائے گی۔

 

اس سے قبل مستحقین کو اپنی رقم وصول کرنے کے لیے طویل سفر، لمبی قطاروں اور مخصوص ادائیگی مراکز تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ نئے انٹرآپریبل نظام کے بعد وہ کسی بھی قریبی پارٹنر ایجنٹ یا دکاندار سے اپنی رقم آسانی سے حاصل کر سکیں گی، چاہے ادائیگی کسی بھی بینک کی جانب سے کی گئی ہو۔

 

سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ اس اصلاحات کا مقصد مستحقین کی عزتِ نفس کو برقرار رکھتے ہوئے مالیاتی شمولیت اور خواتین کو بااختیار بنانا ہے تاکہ انہیں رسمی مالیاتی خدمات تک بہتر رسائی حاصل ہو سکے۔

 

یہ نظام مرحلہ وار پورے ملک میں نافذ کیا جائے گا، جس سے شفافیت میں اضافہ، سکیورٹی خطرات میں کمی اور مستحقین کو اپنی سہولت کے مطابق کسی بھی وقت اور مقام سے رقم وصول کرنے کی سہولت میسر آئے گی۔ اس کے ساتھ پارٹنر بینکوں اور ٹیلی کام کمپنیوں کو عوامی آگاہی مہم، بروقت اکاؤنٹ ایکٹیویشن اور فیلڈ اسٹاف و بینکنگ ایجنٹس کی تربیت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں