مئی ،جون میں انگلینڈاورویلز میں گرمی سےممکنہ طور پر 2,700اموات
میڈیا رپورٹس کے مطابق انگلینڈ اور ویلز میں مئی اور جون کے دوران پڑنے والی شدید گرمی کے نتیجے میں ممکنہ طور پر 2,700 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے۔
امپریل کالج لندن، میٹ آفس اور لندن اسکول آف ہائی جین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن کے ماہرین کے اندازے کے مطابق زیادہ تر اموات جون میں ہوئیں، جب درجۂ حرارت 37.7 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا۔ جون کی گرمی نے گزشتہ 50 برس کا ریکارڈ بھی توڑ دیا۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق 21 سے 29 مئی کے دوران تقریباً 550 جبکہ 18 سے 28 جون کے دوران تقریباً 2,200 افراد ہلاک ہوئے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گرمی کی دونوں لہریں ہیٹ ڈوم کے باعث پیدا ہوئیں۔
ماہرین کے مطابق شدید گرمی دل کے دورے، فالج اور دیگر جان لیوا بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے اسے ایک "خاموش قاتل" قرار دیا جو بظاہر صحت مند افراد کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
پروفیسر فریڈی اوٹو نے خبردار کیا کہ مکمل طور پر صحت مند افراد بھی خود کو شدید گرمی سے محفوظ نہ سمجھیں، کیونکہ مستقبل میں اس نوعیت کی گرمی کی لہریں مزید عام ہو سکتی ہیں۔