Business

پاکستان کے ذمہ واجب الادا 3ارب ڈالر قرض رول اوور

پاکستان کے ذمہ واجب الادا 3ارب ڈالر قرض رول اوور
۹ گھنٹے پہلے

وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کے ذمے واجب الادا 3 ارب ڈالر کے قرض کو رول اوور کر دیا ہے، جس سے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر موجودہ سطح پر برقرار رہیں گے۔

 

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا، "اس معاملے میں سب ٹھیک ہے۔

 

سعودی عرب نے اپریل 2026 میں یہ 3 ارب ڈالر کا قرض 3 ماہ کے لیے فراہم کیا تھا تاکہ پاکستان متحدہ عرب امارات کا قرض ادا کر سکے۔ آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت سعودی عرب، چین اور متحدہ عرب امارات نے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر برقرار رکھنے کے لیے مجموعی طور پر 12.5 ارب ڈالر کے ڈپازٹس برقرار رکھنے کا وعدہ کیا تھا۔

 

رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات کی جانب سے سپورٹ کم ہونے کے بعد سعودی عرب نے اپنی مالی معاونت بڑھا کر 8 ارب ڈالر کر دی ہے۔

 

وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ حکومت بیرونی قرضوں کی مدت بڑھانے اور سی پیک کے تحت چینی کمپنیوں کے توانائی منصوبوں کی ادائیگیوں کو مرحلہ وار کرنے کے مختلف آپشنز پر بھی کام کر رہی ہے۔ پاکستان نے سعودی عرب سے 15 سال کی مدت کے لیے 6.7 ارب ڈالر مالیت کی مؤخر ادائیگی پر تیل کی سہولت کی بھی درخواست کی ہے۔

 

دوسری جانب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) میں تقریباً 1,300 خالی آسامیوں کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے نئی بھرتیوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ تمام ادائیگیاں ڈیجیٹل ہونے کے بعد اضافی عملے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

 

تاہم بی آئی ایس پی کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے مؤقف اختیار کیا کہ 2014 کے بعد نئی بھرتیاں نہ ہونے سے ادارے کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے اور مختلف سرکاری اداروں سے ڈیپوٹیشن پر تعینات افسران کی وجہ سے انتظامی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

قائمہ کمیٹی نے معاملہ مزید جائزے کے لیے آسٹیریٹی کمیٹی کو بھجوا دیا۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں