World

ایران جانے والے پانچ افغانیوں کی لاشیں صحراسے برآمد،14لاپتہ

ایران جانے والے پانچ افغانیوں کی لاشیں صحراسے برآمد،14لاپتہ
۳۸ منٹ پہلے

افغان میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ حال ہی میں سمگلنگ کے راستوں کے ذریعے ایران پہنچنے کی کوشش کرنے والے پانچ افغان شہری جنوبی صوبہ نیمروز کے ایک صحرائی علاقے میں مردہ پائے گئے، جبکہ 14 دیگر افراد لاپتہ ہیں۔

 

ٹو لو نیوز نے 19 جولائی کو اپنی آن لائن رپورٹ میں بتایا کہ سکیورٹی حکام کے مطابق اس گروہ کا ارادہ ہلمند اور نیمروز کے صحراؤں کے راستے غیر قانونی طور پر ایران جانے کا تھا، تاہم شدید گرمی، پانی کی قلت اور دشوار گزار حالات کے باعث پانچ افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ دیگر افراد کا تاحال سراغ نہیں مل سکا۔

 

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (UNHCR) نے بھی اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ خطرناک اور غیر قانونی سفری راستوں کی انسانی قیمت کی ایک دردناک یاد دہانی ہے۔ ادارے کے مطابق اس واقعے سے اس امر کی ضرورت اجاگر ہوتی ہے کہ لوگوں کو بہتر تحفظ اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنی جانیں خطرے میں ڈالنے پر مجبور نہ ہوں۔

 

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تصاویر میں بعض لاشیں صحرا کی ریت پر پڑی ہوئی جبکہ بعض جزوی طور پر ریت میں دبی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔

 

برطانیہ میں قائم افغانستان انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ بیروزگاری، غربت، ایران کی جانب سے ویزوں کے اجرا پر پابندیاں اور ایران سے افغان مہاجرین کی بڑے پیمانے پر بے دخلی ایسے عوامل ہیں جو نوجوان افغانوں کو انسانی سمگلروں کے ذریعے غیر قانونی راستے اختیار کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

 

نجی ادارے ہشتِ صبح کی رپورٹ کے مطابق معاشی مشکلات، سیاسی چیلنجز اور بہتر مواقع کی کمی افغان شہریوں میں ہجرت کے بنیادی محرکات ہیں، جس کے باعث متعدد افراد نقل مکانی کے لیے غیر قانونی اور خطرناک راستوں کا انتخاب کرتے ہیں۔

 

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ برسوں میں ایران جانے کی کوشش کے دوران متعدد افغان شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ 

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں