Breaking News

حکومت اور آئی ایم ایف میں گردشی قرضے کے سیٹلمنٹ پلان پر اتفاق نہ ہو سکا

حکومت اور آئی ایم ایف میں گردشی قرضے کے سیٹلمنٹ پلان پر اتفاق نہ ہو سکا
۴ گھنٹے پہلے

وفاقی حکومت اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان گردشی قرضے میں 1700 ارب روپے تک کمی لانے کے لیے تیار کیے گئے سیٹلمنٹ پلان پر اتفاق نہ ہو سکا۔

 

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کے سیٹلمنٹ پلان کے لیے نئی شرائط پیش کر دی ہیں۔ ملک میں گیس سیکٹر کا مجموعی گردشی قرضہ تقریباً 3300 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جس پر آئی ایم ایف نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو قرضے میں کمی کے لیے مختلف تجاویز دی ہیں۔

 

ذرائع کے مطابق پاکستان کی اقتصادی ٹیم اور آئی ایم ایف کے درمیان ہونے والے ورچوئل مذاکرات میں حکومت کی جانب سے گردشی قرضے میں 1700 ارب روپے تک کمی لانے کے لیے تیار کردہ سیٹلمنٹ پلان پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ 

 

حکومتی ٹیم نے اس منصوبے پر آئی ایم ایف کو قائل کرنے کی کوشش کی، تاہم دونوں فریق اس پر اتفاق رائے تک نہ پہنچ سکے۔ اب اس معاملے پر حتمی مذاکرات ستمبر میں ہونے والے اگلے اقتصادی جائزے کے دوران متوقع ہیں۔

 

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے سیٹلمنٹ پلان کے لیے نئی شرائط بھی پیش کی ہیں اور تجویز دی ہے کہ اگلے مرحلے کے مذاکرات سے پہلے ان شرائط پر عمل درآمد کیا جائے۔

 

آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ سیٹلمنٹ پلان میں گیس کمپنیوں کے مالی نقصانات کو بھی شامل کیا جائے اور جو رقوم وصول نہیں ہو سکیں، انہیں بھی واجبات کے نقصان کے طور پر ظاہر کیا جائے۔

 

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف حکام کا کہنا ہے کہ مجموعی نقصان کو بُک کرنے کے بعد متعلقہ کمپنیوں کو دوبارہ سرمایہ فراہم کر کے ری کیپٹلائز کیا جائے۔

 

دوسری جانب پٹرولیم ڈویژن کے حکام نے آئی ایم ایف کی ان شرائط پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ ذرائع کے مطابق گردشی قرضے کے سیٹلمنٹ پلان پر حتمی بات چیت اب ستمبر میں ہوگی، جبکہ گردشی قرضے میں کمی کا حتمی منصوبہ آئی ایم ایف کی مشاورت سے تیار کیا جائے گا۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں