Pakistan

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی، پاکستان

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی، پاکستان
۲ گھنٹے پہلے

پاکستان نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ پر اپنے ردِعمل میں کہا ہے کہ رپورٹ میں 16 اور 17 مارچ کو افغانستان میں کی گئی پاکستانی فضائی کارروائیوں سے متعلق اہم حقائق کو نظر انداز کیا گیا اور زمینی حقائق کی مکمل عکاسی نہیں کی گئی۔

 

پاکستان کے مطابق یہ کارروائی معتبر انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی تھی، جس کا ہدف کیمپ فینکس میں قائم ڈرون ورکشاپ اور اسلحہ ذخیرہ کرنے کی جگہ تھی۔

 

پاکستانی مؤقف کے مطابق کیمپ فینکس 2003 میں نیٹو کی جانب سے فوجی اڈے کے طور پر قائم کیا گیا تھا، جبکہ امید ڈرگ بحالی مرکز 2010 میں اسی کمپاؤنڈ کے ایک حصے میں بنایا گیا۔ بعد ازاں 2016 میں نیا امید اسپتال قائم ہونے کے بعد پرانا مرکز بند کر دیا گیا تھا۔

 

پاکستان کا کہنا ہے کہ کارروائی کے وقت پرانے امید مرکز کی بیرکس طالبان کی قطعہ یرموک کے تقریباً 350 اہلکاروں کی رہائش گاہ کے طور پر استعمال ہو رہی تھیں، تاہم کارروائی کا اصل ہدف بیرکس نہیں بلکہ ان کے قریب واقع ڈرون اسٹوریج اور ورکشاپس تھیں۔

 

بیان کے مطابق کارروائی کے بعد ذخیرہ شدہ گولہ بارود میں ہونے والے ثانوی دھماکوں اور آگ کے باعث بیرکس کو نقصان پہنچا، جس سے وہاں موجود طالبان اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے۔

 

پاکستان کے مطابق طالبان نے بند پڑے امید مرکز کو پروپیگنڈا کے لیے استعمال کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کارروائی میں عام شہری مارے گئے، جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد طالبان کے جنگجو تھے۔

 

پاکستان نے ہلاکتوں کے اعداد و شمار میں بھی تضادات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ طالبان نے ابتدا میں 408 شہریوں کی ہلاکت اور 165 زخمی ہونے کا دعویٰ کیا، بعد ازاں اقوام متحدہ کے معاون مشن برائے افغانستان (یوناما) نے 143 ہلاکتوں کی اطلاع دی، تاہم انہیں شہری قرار نہیں دیا گیا، جبکہ واقعے کے بعد تقریباً 50 افراد کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔

 

پاکستان نے کہا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ آزادانہ اور جامع تحقیقات پر مبنی نہیں اور اس میں طالبان کے مؤقف کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے، جس سے رپورٹ کی غیر جانبداری متاثر ہوئی۔

 

پاکستان کے مطابق حقائق سے ہٹ کر تیار کی جانے والی رپورٹس دہشت گرد گروہوں کی حوصلہ افزائی کا باعث بن سکتی ہیں کیونکہ اس سے انہیں شہری آبادی کے درمیان اپنی تنصیبات اور اسلحہ منتقل کرنے کا موقع ملتا ہے۔

 

پاکستان نے مزید کہا کہ طالبان پہلے ہی ڈرونز اور حساس گولہ بارود کے ذخائر شہری علاقوں میں منتقل کر رہے ہیں، اس لیے عالمی اداروں کو مکمل اور مصدقہ حقائق کی بنیاد پر رپورٹس مرتب کرنی چاہئیں۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں