Pakistan

گرفتارنادراافسران کا100سے زیادہ غیرملکی جعلی شناختی کارڈز بنانے کااعتراف

گرفتارنادراافسران کا100سے زیادہ غیرملکی جعلی شناختی کارڈز بنانے کااعتراف
۵ گھنٹے پہلے

ایف آئی اے کے ہاتھوں گرفتار نادرا افسران نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے 100 سے زائد غیرملکیوں کے پاکستانی شناختی کارڈز پروسیس کیے۔

 

 ذرائع کے مطابق غیرملکیوں کے لیے درکار جعلی دستاویزات، جن میں پیدائش، وفات، شادی کے سرٹیفکیٹس اور والدین کے شناختی کارڈز شامل تھے، ایک نجی ایجنٹ فراہم کرتا تھا جبکہ سابق نادرا ملازم راؤ زاہد ان دستاویزات کو پراسیسنگ کے لیے آگے بھیجتا تھا۔

 

ذرائع کے مطابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر جہانزیب میمن ہر کیس کے تجزیے کے لیے ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے وصول کرتا تھا۔ یہ رقم گرفتار ملزمان فیاض احمد، معمر شاہ اور راؤ زاہد کے ذریعے جہانزیب تک پہنچائی جاتی تھی۔ 

 

فیاض احمد نے دورانِ تفتیش داؤد، پروین، ماجدہ بی بی اور نصیر اللہ کے مشتبہ شناختی کارڈز پروسیس کرنے کا بھی اعتراف کیا۔ تلاشی کے دوران ملزم کے قبضے سے موبائل فون اور دیگر متعلقہ شواہد برآمد کیے گئے۔

 

ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران دیگر ملوث افراد کے کردار کا بھی تعین کیا جائے گا۔ دوسری جانب جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں افغان شہریوں کے لیے جعلی دستاویزات بنانے کے مقدمے کی سماعت ہوئی، جہاں ایف آئی اے نے چار ملزمان انعام الحق، فیاض احمد سانگی، جنید اور محمد عمر کو پیش کیا۔ عدالت نے تمام ملزمان کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔

 

ایف آئی اے کے مطابق ملزمان افغان شہریوں کے جعلی شناختی دستاویزات بنانے کے لیے نادرا کے ریکارڈ میں ردوبدل کرتے تھے، جبکہ تحقیقات کے دوران ان کے دہشتگرد عناصر سے مبینہ روابط کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں