Breaking News

پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثرہے،احسن اقبال

پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثرہے،احسن اقبال
۱ منٹ پہلے

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 5 ممالک میں شامل ہے، جس کے باعث فلیش فلڈ، لینڈ سلائیڈنگ اور اربن فلڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

 

اسلام آباد میں وفاقی وزرا کے ہمراہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے دورے کے بعد نیوز بریفنگ دیتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نے مون سون سیزن شروع ہونے سے پہلے ہی حفاظتی اقدامات کا آغاز کر دیا تھا، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی رسپانس کمیٹی قائم کی گئی ہے، جو روزانہ کی بنیاد پر اجلاس منعقد کر رہی ہے۔

 

انہوں نے بتایا کہ اب تک مون سون کے دوران 109 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، تاہم زیادہ تر اموات سیلابی ریلوں سے نہیں بلکہ عمارتوں اور دیگر انفراسٹرکچر کے گرنے کے باعث ہوئیں۔

 

احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو 2022 اور 2025 میں تباہ کن سیلاب کا سامنا کرنا پڑا، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات شدت اختیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سیلاب اور شدید حدت سے ہونے والے نقصانات سے بچاؤ کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔

 

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ زرعی شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے تاکہ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

 

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ مصدق ملک نے کہا کہ دنیا کے چند بڑے ممالک گرین ہاؤس گیسز کے سب سے بڑے اخراج کنندہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے صرف 3 ممالک تقریباً 57 فیصد جبکہ 10 ممالک 70 فیصد سے زائد گرین ہاؤس گیسز خارج کر رہے ہیں۔

 

مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان گرین ہاؤس گیسز کے بڑے اخراج کنندگان میں شامل نہیں، اس کے باوجود موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات برداشت کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ درجہ حرارت میں اضافے کے باعث گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے تباہ کن سیلابوں اور دیگر قدرتی آفات کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ تباہی کوئی اور پھیلا رہا ہے، لیکن اس کی قیمت پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان عالمی سطح پر موسمیاتی ناانصافی اور دوہرے معیار کے مسئلے کو بارہا اجاگر کر چکا ہے اور دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ غریب اور کم آلودگی پھیلانے والے ممالک پر موسمیاتی تباہی مسلط نہیں کی جا سکتی۔

 

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ حالیہ برسوں کے تباہ کن سیلابوں میں ہزاروں پاکستانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، اس لیے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کو مشترکہ اور منصفانہ اقدامات کرنا ہوں گے۔

 

مصدق ملک نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر تمام متعلقہ ادارے ایک مربوط نظام کے تحت کام کر رہے ہیں اور سیکیورٹی، منصوبہ بندی، مالیات، اطلاعات اور آبی وسائل سے متعلق اداروں کے درمیان مکمل ہم آہنگی قائم کی جا رہی ہے۔

 

انہوں نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ڈیٹا سائنس، ڈرونز، سیٹلائٹس اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کو یکجا کیا جا رہا ہے تاکہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے پیشگی وارننگ اور بروقت فیصلہ سازی کا مؤثر نظام فعال بنایا جا سکے۔

 

انہوں نے خبردار کیا کہ شمالی علاقوں، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں اس مرتبہ معمول سے زیادہ بارشوں کا امکان ہے، تاہم حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ایک مربوط اور مؤثر حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔

 

وفاقی وزیر برائے آبی وسائل میاں معین وٹو نے کہا کہ پاکستان میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ سیلابی صورتحال اور مستقبل کی آبی ضروریات سے نمٹنے کے لیے بڑے آبی ذخائر ناگزیر ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ آبی ذخائر میں اضافے سے نہ صرف سیلابی پانی کو مؤثر انداز میں محفوظ بنایا جا سکتا ہے بلکہ زرعی شعبے کو مستحکم کرنے اور قومی غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں بھی مدد ملے گی۔

 

میاں معین وٹو نے کہا کہ تمام متعلقہ محکمے باہمی رابطے اور مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت کام کر رہے ہیں تاکہ پانی کے وسائل کے مؤثر انتظام اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

 

انہوں نے بتایا کہ مہمند ڈیم ملک کا ایک اہم منصوبہ ہے، جس سے آبی ذخائر کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا، جبکہ داسو ڈیم بھی مستقبل میں پانی ذخیرہ کرنے کی استعداد بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

 

وفاقی وزیر نے کہا کہ نئے آبی منصوبے نہ صرف آبپاشی اور پینے کے پانی کی فراہمی کو بہتر بنائیں گے بلکہ قومی غذائی تحفظ اور پائیدار زرعی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔

 

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پورا حکومتی نظام مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہول آف گورنمنٹ اپروچ" کے ذریعے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ قائم کیا گیا ہے تاکہ موسمیاتی خطرات کا بروقت اور مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

 

انہوں نے کہا کہ فلیش فلڈز اور دیگر قدرتی آفات کے خدشات کے پیش نظر پیشگی منصوبہ بندی اور بروقت اقدامات ناگزیر ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں وفاقی ادارے مشترکہ لائحہ عمل پر عمل پیرا ہیں اور مربوط حکمتِ عملی کے ذریعے عوام کے جان و مال کے تحفظ اور نقصانات میں کمی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

 

محمد اورنگزیب نے کہا کہ 2025 کے سیلاب میں 2022 کے مقابلے میں انسانی جانوں کا نقصان نمایاں طور پر کم رہا، جس کا سہرا بروقت تیاری، بہتر رابطہ کاری اور مؤثر اقدامات کو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور وفاقی کابینہ نے قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمتِ عملی اختیار کی، جبکہ متاثرہ علاقوں میں فوری امداد اور بحالی کے اقدامات کو ترجیح دی گئی۔

 

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی آبادی پاکستان کو درپیش بڑے چیلنجز ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے حکومت جامع اصلاحاتی پروگرام پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 2 ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت موسمیاتی تبدیلی اور آبادی سے متعلق اہم اقدامات پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔

 

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات کیے گئے، جبکہ وفاقی کابینہ، صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی حکومتوں نے مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت کام کیا۔

 

انہوں نے کہا کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے تمام متعلقہ اداروں اور صوبائی حکومتوں کے تعاون سے ارلی وارننگ سسٹم کو مزید مؤثر بنایا، جس کے ذریعے عوام کو ممکنہ خطرات سے بروقت آگاہ کیا گیا اور اس سال جانی و مالی نقصان میں نمایاں کمی آئی۔

 

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ این ڈی ایم اے کا نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر عالمی معیار کے مرکز کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، جبکہ الرٹ ایپ، جدید ٹیکنالوجی اور ارلی وارننگ سسٹم کے ذریعے شہریوں کو فوری اطلاعات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کلاؤڈ برسٹ، سیلابی ریلوں اور شدید بارشوں کے خدشات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے وفاق، صوبوں، متعلقہ اداروں اور عوام کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ وزیراعظم کی ہدایات پر عوامی آگاہی مہم مزید مؤثر بنائی جا رہی ہے، جبکہ روایتی اور سوشل میڈیا کے ذریعے شہریوں تک بروقت معلومات کی فراہمی کا سلسلہ بھی جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے موسمیاتی خطرات سے متعلق آگاہی پھیلانے میں پاکستانی میڈیا کے کردار کو بھی سراہا۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں