Pakistan

آئی ایم ایف پیٹرول پر عائد لیوی کم کرنے پر راضی نہیں، وزیر پیٹرولیم

آئی ایم ایف پیٹرول پر عائد لیوی کم کرنے پر راضی نہیں،   وزیر پیٹرولیم
۳ گھنٹے پہلے

اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے اجلاس میں وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پیٹرول پر عائد موجودہ لیوی جنگ کے دوران نافذ کی گئی لیوی سے بھی کم ہے، تاہم اس میں کمی کے لیے آئی ایم ایف آمادہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر حکومت کو لیوی کی مد میں آمدن کا کوئی متبادل ذریعہ مل جاتا ہے تو شاید آئی ایم ایف اس معاملے پر رضامندی ظاہر کرے۔ اجلاس قائمہ کمیٹی کے چیئرمین عمر فاروق کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں وزیر پیٹرولیم نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین اور اوگرا کے نئے نظام پر تفصیلی بریفنگ دی۔

 

علی پرویز ملک نے کہا کہ ریگولیٹر کی ذمہ داری ہے کہ قیمتوں کے تعین کے لیے تمام شراکت داروں کو اعتماد میں لے کر فیصلے کرے۔ ان کے مطابق حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرنے کا اختیار اوگرا کو منتقل کر دیا ہے اور قیمتوں کے تعین کا مکمل طریقہ کار اوگرا کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر اس طریقہ کار کو اردو زبان میں بھی شائع کیا جائے گا تاکہ عام شہری بھی اسے آسانی سے سمجھ سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ قیمتوں کے تعین کے لیے آج بھی عالمی منڈی میں سات روزہ رولنگ ایوریج کو بنیاد بنایا جاتا ہے، جس میں عالمی مارکیٹ میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کے ساتھ حکومتی ٹیکسز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا منافع بھی شامل ہوتا ہے۔

 

وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ ماضی میں جب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہفتہ وار مقرر ہوتی تھیں تو بعض کمپنیاں قیمتوں میں متوقع اضافے سے پہلے سپلائی کم کر دیتی تھیں تاکہ زیادہ منافع حاصل کیا جا سکے، تاہم روزانہ قیمتوں کے تعین کے نئے نظام سے ایسی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی ہوگی اور مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا کرنے کا امکان کم ہو جائے گا۔

 

اجلاس کے دوران سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے روزانہ قیمتوں کے تعین کے نظام پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ عوام کے لیے ایک "سلو پائزن" ثابت ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام پہلے ہی مہنگائی کے شدید دباؤ کا شکار ہیں اور اب انہیں یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ آج پیٹرول کی قیمت کیا ہے اور اگلے دن کیا ہوگی، جس سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔

 

وزیر پیٹرولیم نے چیئرمین اوگرا کی تعیناتی کے حوالے سے بتایا کہ تقرری کا عمل بروقت شروع کیا گیا تھا اور امیدواروں کے انٹرویوز بھی ہوئے، تاہم کوئی موزوں امیدوار نہ ملنے کی وجہ سے یہ عمل دوبارہ شروع کیا گیا ہے۔ اس موقع پر قائم مقام چیئرمین اوگرا نے کمیٹی کو بتایا کہ اگر عالمی منڈی میں آج شام تیل کی قیمت کم ہوتی ہے تو اس کا اثر پاکستان میں سات روز بعد ظاہر ہوگا، جبکہ قیمت بڑھنے کی صورت میں بھی یہی طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پیٹرول پر کسٹم ڈیوٹی 18 روپے 11 پیسے فی لیٹر ہے اور روزانہ قیمتوں کے تعین کا نظام عوام کے مفاد میں ہے کیونکہ اس سے عالمی منڈی کی قیمتوں کا اثر بتدریج منتقل ہوتا ہے اور مختصر مدت میں مصنوعی منافع کمانے والوں کی گنجائش ختم ہو جاتی ہے۔

 

سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے سوال اٹھایا کہ 11 جولائی کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 76 ڈالر فی بیرل تھی جبکہ 17 جولائی کو یہ 82 ڈالر تک پہنچی، لیکن پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 30 روپے اضافہ کیسے کیا گیا؟ اس پر وزیر پیٹرولیم نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں قیمتوں کا تعین خام تیل کے بجائے تیار شدہ پیٹرول اور ڈیزل کی بین الاقوامی قیمتوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، اسی لیے دونوں میں فرق آ سکتا ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں