Pakistan

چیف جسٹس کے زبانی احکامات پر اب کوئی مقدمہ درج نہیں ہوتا، رجسٹرار سپریم کورٹ

چیف جسٹس کے زبانی احکامات پر اب کوئی مقدمہ درج نہیں ہوتا، رجسٹرار سپریم کورٹ
۳ گھنٹے پہلے

رجسٹرار سپریم کورٹ سہیل لغاری نے کہا ہے کہ اب چیف جسٹس کے زبانی احکامات پر کوئی مقدمہ سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا جاتا بلکہ تمام مقدمات سپریم کورٹ کی فکسیشن پالیسی 2026 اور ارلی ہیئرنگ کے طے شدہ اصولوں کے مطابق مقرر کیے جاتے ہیں۔ مقدمات کی سماعت کا عمل مکمل طور پر پالیسی کے تحت چلایا جا رہا ہے تاکہ شفافیت اور یکسانیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

 

سپریم کورٹ میں مقدمات کی فکسیشن پالیسی پر بریفنگ دیتے ہوئے رجسٹرار سہیل لغاری نے بتایا کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے منصب سنبھالنے کے وقت مقدمات کی کوئی جامع کیٹیگرائزیشن موجود نہیں تھی، جس کے باعث مقدمات کی درجہ بندی ایک بڑا اور مشکل مرحلہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں موجود تمام مقدمات کی فائلیں اسکین کی گئیں، انہیں ڈیجیٹل نظام میں منتقل کیا گیا اور ساتھ ہی ہر مقدمے کی کیٹیگرائزیشن بھی مکمل کی گئی۔

 

انہوں نے بتایا کہ دسمبر 2025 تک سپریم کورٹ کے تمام زیر التوا مقدمات کی کیٹیگرائزیشن مکمل کر لی گئی تھی، جس کے بعد اپریل 2026 میں نئی فکسیشن پالیسی متعارف کرائی گئی۔ ان کے مطابق مقدمات کی ڈیجیٹائزیشن اور منظم درجہ بندی سے کیس مینجمنٹ کے نظام کو مؤثر بنانے میں مدد ملی ہے۔

 

رجسٹرار سپریم کورٹ نے کہا کہ اپیلیں زیر التوا رہنے کی وجہ سے نچلی عدالتوں میں ٹرائل بھی متاثر ہوتے ہیں، اسی لیے مقدمات کی بروقت سماعت کے لیے نیا نظام متعارف کرایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں دسمبر 2025 تک زیر التوا سزائے موت کے تمام مقدمات کا فیصلہ ہو چکا ہے، جبکہ شریعت اپیلیٹ بینچ نے بھی سزائے موت سے متعلق تمام اپیلوں کو نمٹا دیا ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں