Breaking News

حکومت نے بجلی کے بلوں اور پیٹرولیم لیوی سے کتنے ارب روپے کمائے؟ حیران کن اعداد و شمار سامنے آگئے

حکومت نے بجلی کے بلوں اور پیٹرولیم لیوی سے کتنے ارب روپے کمائے؟ حیران کن اعداد و شمار سامنے آگئے
۳ گھنٹے پہلے

وفاقی حکومت نے گزشتہ چار مالی سالوں کے دوران بجلی کے بلوں کے ذریعے سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کی مد میں مجموعی طور پر 1,866 ارب روپے وصول کیے، جبکہ گزشتہ دو برسوں میں مختلف پیٹرولیم مصنوعات پر عائد پیٹرولیم لیوی کی مد میں 2,725 ارب روپے جمع کیے۔ یہ اعداد و شمار سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے اجلاس میں پیش کی گئی سرکاری بریفنگ میں سامنے آئے، جہاں چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) راشد لنگڑیال نے بجلی کے شعبے میں ٹیکس وصولیوں، ٹیکس رعایتوں اور پیٹرولیم لیوی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

 

سرکاری دستاویزات کے مطابق بجلی کے بلوں کے ذریعے سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کی مد میں مالی سال 2022-23 میں 312.8 ارب روپے، مالی سال 2023-24 میں 515.5 ارب روپے، مالی سال 2024-25 میں 562 ارب روپے جبکہ مالی سال 2025-26 میں 476.1 ارب روپے وصول کیے گئے۔ اس طرح گزشتہ چار برسوں کے دوران مجموعی وصولی 1,866 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ دستاویزات کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے ذریعے 351.8 ارب روپے سیلز ٹیکس اور 124.4 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا گیا، جبکہ مجموعی وصولی 476.1 ارب روپے رہی۔

 

اعداد و شمار کے مطابق سیلز ٹیکس میں 269.1 ارب روپے نارمل سیلز ٹیکس، 54.98 ارب روپے ایکسٹرا ٹیکس، 16.54 ارب روپے مزید ٹیکس اور ریٹیلرز کو فراہم کی جانے والی بجلی پر 11.14 ارب روپے سیلز ٹیکس شامل تھا۔ اسی طرح 124.36 ارب روپے کی انکم ٹیکس وصولی میں صنعتی صارفین سے 66.18 ارب روپے، کمرشل صارفین سے 51.99 ارب روپے، گھریلو صارفین سے 4.83 ارب روپے جبکہ سیکشن 235A کے تحت 1.37 ارب روپے وصول کیے گئے۔

 

چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے کمیٹی کو بتایا کہ بجلی کا شعبہ ملکی معیشت میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے اور اسے سب سے زیادہ ٹیکس رعایتیں حاصل ہیں۔ ان کے مطابق اگر ان رعایتوں کو کم یا ختم کیا جائے تو بجلی پر وصول کیے جانے والے ٹیکسوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہر سال بجلی کے بلوں کے ذریعے 400 سے 500 ارب روپے تک قابلِ ایڈجسٹ ودہولڈنگ انکم ٹیکس وصول کیا جاتا ہے، تاہم بڑی تعداد میں ٹیکس دہندگان انکم ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کراتے، جس کے باعث وہ اس رقم کی ایڈجسٹمنٹ یا ریفنڈ حاصل نہیں کر پاتے۔

 

بریفنگ میں بتایا گیا کہ پیٹرولیم لیوی ایک نان ٹیکس ریونیو ہے، جو مکمل طور پر وفاقی حکومت کے پاس رہتا ہے، جبکہ ایف بی آر کے ٹیکس ریونیو کا 57.5 فیصد حصہ قومی مالیاتی کمیشن (NFC) ایوارڈ کے تحت صوبوں کو منتقل کیا جاتا ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پیٹرول پر تقریباً 80 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر تقریباً 70.82 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی وصول کی جا رہی ہے۔

 

سرکاری دستاویزات کے مطابق وفاقی حکومت نے اپریل 2024 سے مارچ 2026 تک کے دو سالہ عرصے میں مختلف پیٹرولیم مصنوعات پر عائد پیٹرولیم لیوی کی مد میں 2.725 ٹریلین روپے وصول کیے۔ مالی سال 2025-26 کے لیے حکومت نے پیٹرولیم لیوی سے 1,468 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا، تاہم اصل وصولی 1,564 ارب روپے رہی، جو ہدف سے 96 ارب روپے زیادہ تھی۔ مالی سال کے پہلے نو ماہ میں حکومت 1,205 ارب روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کر چکی تھی، جبکہ مالی سال 2024-25 کے دوران یہ وصولی 1,220.21 ارب روپے رہی۔

 

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق حکومت نے ایک طرف گزشتہ چار برسوں میں بجلی کے بلوں کے ذریعے 1,866 ارب روپے کے سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس وصول کیے، جبکہ دوسری جانب صرف دو برسوں میں پیٹرولیم لیوی کی مد میں 2,725 ارب روپے جمع کیے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات پر عائد محصولات وفاقی حکومت کی آمدنی کے اہم ترین ذرائع میں شامل ہیں، تاہم مہنگائی اور توانائی کی بڑھتی ہوئی لاگت کے باعث ان ٹیکسوں اور لیویز کا براہِ راست بوجھ عام صارفین اور کاروباری طبقے پر بھی پڑ رہا ہے۔ 

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں