Breaking News

پاکستان کی پہلی اکنامک سمٹ، معاشی استحکام کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات ناگزیر قرار

پاکستان کی پہلی اکنامک سمٹ، معاشی استحکام کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات ناگزیر قرار
۳ گھنٹے پہلے

اسلام آباد میں منعقد ہونے والی پاکستان کی پہلی اکنامک سمٹ 2026 میں ماہرین معیشت، حکومتی نمائندوں، کاروباری شخصیات اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب گامزن ہے، تاہم اس استحکام کو پائیدار بنانے کے لیے پالیسیوں کا تسلسل، ادارہ جاتی اصلاحات اور نجی شعبے کے کردار کو مزید مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ سمٹ کے دوران مقررین نے کہا کہ معاشی بہتری کے لیے صرف قلیل مدتی اقدامات کافی نہیں بلکہ دیرپا اصلاحات اور مضبوط پالیسی فریم ورک کی ضرورت ہے۔

 

سمٹ کے شرکا نے اپنے خطاب میں کہا کہ خواتین ملکی معیشت کی بہتری میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں مزید مواقع فراہم کیے جانے چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کے لیے اصلاحات کے عمل کو مزید تیز کرنا ہوگا، جبکہ سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھنا ضروری ہے۔ مقررین کے مطابق برآمدات میں اضافہ ہی مضبوط اور مستحکم معیشت کی بنیاد ہے، اس لیے صنعتی پیداوار، برآمدی شعبے اور سرمایہ کار دوست ماحول پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔

 

شرکا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نجی شعبے کو معاشی ترقی میں مرکزی کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق ٹیکس نیٹ میں توسیع، معیشت کو دستاویزی شکل دینا اور ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعت، زراعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے شعبے قومی ترقی کے بنیادی ستون ہیں اور ان شعبوں میں سرمایہ کاری اور جدید اصلاحات کے ذریعے معیشت کو نئی رفتار دی جا سکتی ہے۔

 

مقررین نے نوجوانوں کی ترقی کو بھی معاشی استحکام سے جوڑتے ہوئے کہا کہ انہیں ہنر، جدید تعلیم اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔ ان کے مطابق ڈیجیٹل معیشت کے فروغ، ٹیکنالوجی کے استعمال اور جدید کاروباری ماحول کی تشکیل سے اقتصادی ترقی میں نمایاں تیزی لائی جا سکتی ہے۔ شرکا نے اس بات کا اعادہ کیا کہ معاشی استحکام کے لیے پالیسیوں کا تسلسل، مؤثر گورننس اور ادارہ جاتی اصلاحات بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔

 

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ عموماً سیاسی گفتگو سے گریز کرتے ہیں، تاہم آج انہیں کچھ سیاسی بات کرنا پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے شرکا اپنے اپنے مسائل بیان کر رہے تھے، لیکن پاکستان آج جس صورتحال میں کھڑا ہے، اس کے ذمہ دار ہم سب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں سیاست میں آئے تقریباً ساڑھے تین سال ہو چکے ہیں اور ان کے تجربے کے مطابق اگر موجودہ نظام میں بنیادی تبدیلیاں نہ کی گئیں تو آئندہ دس سال بعد بھی یہی مسائل اسی طرح موجود ہوں گے۔

 

محسن نقوی نے خبردار کیا کہ موجودہ انتظامی نظام مؤثر انداز میں کام نہیں کر رہا اور اس میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس دن یہ فیصلہ کر لیا جائے کہ نظام کو درست کرنا ہے، اسی دن سے بہتری کا عمل شروع ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جمہوریت کے حامی ہیں، لیکن جمہوری نظام کے اندر بھی مختلف طرز کے انتظامی ڈھانچے موجود ہوتے ہیں اور پاکستان کو بھی اپنے انتظامی نظام کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا۔

 

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ عام آدمی کو سیاسی نعروں سے زیادہ بنیادی سہولتوں کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن موجودہ نظام میں ریاست یہ سہولتیں مؤثر انداز میں فراہم نہیں کر پا رہی۔ ان کے مطابق ملک کو انتظامی یونٹس کی سطح پر مؤثر اصلاحات کی ضرورت ہے، چاہے انہیں صوبے کہا جائے یا کسی اور نام سے پکارا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صرف نوجوانوں کو چند ہزار روپے یا ٹیبلٹس فراہم کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے، بلکہ ملک کے بنیادی ڈھانچے، گورننس اور انتظامی نظام کو درست کرنا ہوگا تاکہ دیرپا معاشی اور سماجی بہتری ممکن ہو سکے۔ 

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں