پاکستان اور ایران کا دوطرفہ تجارت 10 ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق
پاکستان اور ایران نے تجارتی تعلقات کو نئی رفتار دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ مشترکہ تجارتی کمیٹی کے دسویں اجلاس کے متفقہ منٹس پر دستخط کر دیے گئے، جبکہ دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت کا حجم 10 ارب ڈالر تک بڑھانے، آزاد تجارتی معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے اور سرحدی تجارت کے فروغ پر اتفاق کیا۔
پاکستان اور ایران کے درمیان مشترکہ تجارتی کمیٹی کے دسویں اجلاس کے تیسرے اور آخری روز کے متفقہ منٹس پر دستخط کیے گئے۔ دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارتی حجم کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے، آزاد تجارتی معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے، محصولات میں کمی اور کسٹمز کلیئرنس میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے طریقۂ کار پر بھی اتفاق کیا۔
وفاقی وزیر تجارت نے کہا کہ دونوں ممالک نے مشترکہ سرحد پر مال بردار گاڑیوں کی بلا رکاوٹ آمدورفت یقینی بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 24 گھنٹے کسٹمز کلیئرنس کی سہولت فراہم کرنے اور پاکستانی بندرگاہوں پر موجود کنٹینرز کی کلیئرنس کے لیے سفارتی ذرائع سے واضح طریقۂ کار وضع کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
اجلاس میں سرحدی تجارت، بارٹر تجارت اور کاروباری اداروں کے درمیان براہِ راست روابط کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا، جبکہ دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان تجارتی وفود کے تبادلوں پر بھی زور دیا گیا۔
ایرانی وزیر نے کہا کہ اگر ان فیصلوں پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کیا گیا تو دونوں ممالک میں معاشی خوشحالی کو فروغ ملے گا، عوام کی فلاح و بہبود میں اضافہ ہوگا اور دوطرفہ تجارت کا حجم 10 ارب ڈالر تک پہنچانے کے مشترکہ ہدف کی جانب مسلسل پیش رفت ممکن ہو گی۔
تین روزہ مذاکرات کے دوران تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کے مختلف شعبوں میں اتفاقِ رائے سامنے آیا، جبکہ دونوں ممالک نے متفقہ فیصلوں پر فوری عمل درآمد کے لیے تکنیکی کمیٹیوں کے کام کو تیز کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔