Pakistan

لاہور میں پولیس کی مبینہ حراست میں جاں بحق دونوں خواتین سپردِ خاک

لاہور میں پولیس کی مبینہ حراست میں جاں بحق دونوں خواتین سپردِ خاک
۱۲ گھنٹے پہلے

لاہور میں پولیس کی مبینہ حراست میں جاں بحق ہونے والی دونوں خواتین کی لاشیں پاکپتن پہنچا دی گئیں، جہاں انہیں نمازِ جنازہ کے بعد سپردِ خاک کر دیا گیا۔ دونوں خواتین نند بھاوج اور پاکپتن کی بستی غوث نگر کی رہائشی تھیں، جبکہ تدفین کے موقع پر پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات رہی۔

 

لواحقین کے مطابق دونوں خواتین لاہور کے علاقے چونگی امر سدھو میں رہتی تھیں اور پینسلیں فروخت کرکے محنت مزدوری کرتی تھیں۔ انمول کے والد نے بتایا کہ دونوں خواتین 4 اگست کو صبح 8 بجے کام کے لیے گھر سے نکلی تھیں، جبکہ 5 اگست کو پولیس نے اہلخانہ کو اطلاع دی کہ انہیں ڈکیتی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

 

انمول کے والد کے مطابق جب خواتین کے اہلخانہ انہیں لینے تھانے پہنچے تو پولیس نے بتایا کہ دونوں کو جیل منتقل کر دیا گیا ہے اور ایف آئی آر لے جا کر اگلے روز ضمانت کروا لی جائے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے انہیں کسی اور مقدمے کی ایف آئی آر فراہم کی، جبکہ اسی رات تقریباً 8 بجے دوبارہ فون کرکے بتایا گیا کہ دونوں خواتین جاں بحق ہو چکی ہیں اور ان کی لاشیں لے جائیں۔

 

انمول کے ماموں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس ایسی ویڈیو فوٹیج موجود ہے جس میں دونوں خواتین کو صحت مند حالت میں تھانے جاتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ پولیس معاملے کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے اور اہلخانہ کو انصاف نہیں دیا جا رہا۔

 

لواحقین کے مطابق پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ دونوں خواتین منشیات استعمال کرتی تھیں، تاہم خاندان نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں خواتین محنت مزدوری کرتی تھیں اور منشیات استعمال نہیں کرتی تھیں۔

 

واقعے کے حوالے سے پولیس کی جانب سے مزید تحقیقات اور خواتین کی موت کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا رہا ہے، جبکہ اہلخانہ نے شفاف تحقیقات اور انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں