Pakistan

اسلام آباد میں حکومت خطرے میں ہے، الٹی گنتی شروع ہوچکی، بلاول بھٹو

اسلام آباد میں حکومت خطرے میں ہے، الٹی گنتی شروع ہوچکی، بلاول بھٹو
۱۱ گھنٹے پہلے

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ ن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ن لیگ کو غلط فہمی ہے کہ وہ آزاد کشمیر میں حکومت بنانے جا رہی ہے، اصل میں اسلام آباد میں ان کی حکومت بھی خطرے میں ہے اور اس کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے۔ باغ میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ گنتی پیپلز پارٹی نے شروع نہیں کی بلکہ ان کے اپنے لوگوں نے شروع کروائی ہے۔

 

بلاول بھٹو نے کہا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی سیاسی لڑائی ہوتی رہتی ہے، تاہم اصل لڑائی اسلام آباد اور لاہور کی ہے اور یہ ان کے خاندان کا اپنا مسئلہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ کا ایک خاص حصہ وزیراعظم کو اتحادیوں سے لڑوانا چاہتا ہے۔

 

پیپلز پارٹی چیئرمین نے کہا کہ نظام ناکام نہیں بلکہ ناکام کروایا گیا ہے اور جب تک عوام کی حاکمیت تسلیم نہیں کی جائے گی، نظام درست طریقے سے نہیں چل سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کا قیام اگر عوام کا فیصلہ ہے تو پیپلز پارٹی ساتھ دے گی، تاہم اگر یہ عوام کا فیصلہ نہیں تو پارٹی اس کی حمایت نہیں کرے گی۔

 

بلاول بھٹو نے آزاد کشمیر کی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی تاریخ میں اس سے مشکل وقت پہلے نہیں آیا۔ ان کے مطابق 50، 50 دن تک انٹرنیٹ اور سڑکیں بند رہنے سے کاروباری سرگرمیاں اور معمولات زندگی متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے تمام مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر اسمبلی نے بھی سچائی اور مفاہمتی کمیشن کے قیام کی قرارداد منظور کی ہے۔

 

انہوں نے مطالبہ کیا کہ کمیشن کے قیام تک احتجاج کرنے والے احتجاج اور کارروائی کرنے والے کارروائیاں بند کریں۔ بلاول بھٹو نے آزاد کشمیر میں چھ مراحل میں انتخابات کرانے پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ کشمیر ایک ہے تو انتخابات بھی ایک ہی روز ہونے چاہییں تھے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مرحلہ وار انتخابات کا مقصد دھاندلی کرنا تھا۔

 

بلاول بھٹو نے کہا کہ حکومت کو کئی بار بتایا گیا ہے کہ مسائل کا حل مذاکرات سے نکالا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کشمیر کے معاملے پر سچائی کمیشن بنانے اور کمیشن کی رپورٹ آنے تک فریقین کو مزید اقدامات سے روکنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں امن قائم کیا جائے اور شفاف انتخابات کرائے جائیں۔

 

پیپلز پارٹی چیئرمین نے مزید کہا کہ انہیں اپوزیشن کرنے کا شوق ہے اور اگر وہ اپوزیشن میں ہوتے تو حکومت کو مشکلات کا پتا چل جاتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ دھاندلی زدہ اور خونی انتخابات پیپلز پارٹی کو قبول نہیں۔ 

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں