کینیڈا اور سکاٹ لینڈ کا میچ ون ڈے کرکٹ کی تاریخ کا 5000واں مقابلہ
کینیڈا اور سکاٹ لینڈ کے درمیان جمعے کو ہونے والا میچ مردوں کے ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ کی تاریخ کا 5000واں میچ بن گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر آئرلینڈ اور افغانستان کے درمیان سیریز کا پہلا میچ بارش کے باعث منسوخ نہ ہوتا تو یہ تاریخی اعزاز انہی دونوں ٹیموں کے نام ہوتا۔
ڈنڈی اور بریڈی میں بارش کے باعث شیڈول متاثر ہونے کے نتیجے میں کینیڈا اور اسکاٹ لینڈ کا مقابلہ تاریخی حیثیت اختیار کر گیا۔ پانچ ہزار ون ڈے میچز مکمل ہونا بظاہر عالمی سطح پر کرکٹ کے پھیلاؤ کی علامت ہے، کیونکہ اس تاریخی مقابلے میں شمالی امریکا اور یورپ کی ٹیمیں شریک تھیں، جبکہ آئرلینڈ اور افغانستان بھی حالیہ برسوں میں ایسوسی ایٹ رکن سے مکمل رکن بننے والی ٹیموں کی ترقی کی مثال ہیں۔
تاہم ون ڈے کرکٹ کا یہ سنگ میل عالمی سطح پر زیادہ جوش پیدا کرتا دکھائی نہیں دیتا۔ موجودہ کرکٹ کیلنڈر میں ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی فارمیٹس نے زیادہ توجہ حاصل کرلی ہے، جبکہ ون ڈے میچز اکثر صرف شیڈول مکمل کرنے یا رینکنگ پوائنٹس حاصل کرنے تک محدود محسوس ہوتے ہیں۔
1990 اور 2000 کی دہائی کو ون ڈے کرکٹ کا سنہری دور قرار دیا جاتا ہے، جب سہ فریقی ٹورنامنٹس اور طویل باہمی سیریز عالمی کرکٹ کا اہم حصہ ہوا کرتی تھیں۔ ماہرین کے مطابق مسئلہ 50 اوورز کے فارمیٹ میں نہیں بلکہ اس کے واضح مقصد اور مسابقتی اہمیت کے فقدان میں ہے۔
اسی تناظر میں سابقہ ون ڈے سپر لیگ کو دوبارہ متعارف کرانے کی تجویز بھی سامنے آتی رہی ہے، تاکہ باہمی ون ڈے سیریز کو زیادہ مسابقتی اور بامقصد بنایا جا سکے۔