کراچی،میر رضا علی کی دوبارہ قبر کشائی، نمونے لیے گئے
کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں مبینہ طور پر قتل ہونے والے نوجوان میر رضا علی کی موت کی حتمی وجہ معلوم کرنے کے لیے عدالتی نگرانی میں دوبارہ قبر کشائی کی گئی۔ قبر کشائی کے دوران میر رضا علی کے اعضا کے نمونے لیے گئے، جس کے بعد لاش کی دوبارہ تدفین کردی گئی۔
قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کے عمل کے موقع پر فیروز آباد تھانے کی حدود میں رحمانیہ مسجد سے متصل قبرستان اور اطراف میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے اور پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی۔ سول جج اینڈ جوڈیشل مجسٹریٹ کراچی ایسٹ بھی موقع پر موجود تھے۔
قبر کشائی سے قبل انتظامیہ کی جانب سے تشکیل دیا گیا پانچ رکنی میڈیکل بورڈ تبدیل کرکے سابقہ آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ بحال کردیا گیا۔ اس سے قبل محکمہ صحت کی جانب سے بورڈ میں اچانک تبدیلی پر میر رضا علی کے اہل خانہ نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے نئے بورڈ کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا، جس کے باعث قبر کشائی کا عمل عارضی طور پر مؤخر ہوگیا تھا۔
نئے باضابطہ حکم نامے کے تحت ڈاکٹر سمعیہ سید کو ایک بار پھر آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ کی کنوینر مقرر کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر سمعیہ سید نے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں 14 سنگین خامیوں کی نشاندہی کی تھی۔
بحال کیے گئے میڈیکل بورڈ میں ڈاؤ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر نسیم احمد بطور پیتھالوجسٹ، ڈاکٹر فرح وسیم بطور فارنزک ایکسپرٹ اور سی پی ایل سی افسر عامر حسن خان بطور فارنزک آئیڈینٹی فکیشن ایکسپرٹ شامل ہیں، جبکہ ڈاکٹر کامران، ڈاکٹر سری چند اور ڈاکٹر دانیال مرزا کو بھی بطور ممبر برقرار رکھا گیا ہے۔