ججز تعیناتی کی سمری میں تاخیر پر اسلام آباد ہائیکورٹ کی وفاقی حکومت پر برہمی
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تعیناتی سے متعلق سمری میں تاخیر پر وفاقی حکومت پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے سوال کیا کہ وفاقی حکومت کیا کر رہی ہے اور اس معاملے میں اس کی کوئی دلچسپی ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے توقع کی تھی کہ وفاقی حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ ججز کی تعیناتی سے متعلق سمری اس وقت کس مرحلے پر ہے اور وفاقی حکومت کو اس بارے میں کیا معلومات ہیں۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ سندھ اور پشاور ہائیکورٹ کے ججز کی کنفرمیشن کا معاملہ بھی رکا ہوا ہے، حالانکہ جوڈیشل کمیشن اس کی منظوری دے چکا ہے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ سمری کو اس طرح زیرِ التوا نہیں رکھا جا سکتا۔ ان کے مطابق پہلے 15 دن مکمل نہیں ہوئے تھے لیکن اب 18 دن گزر چکے ہیں۔
درخواست گزار لقمان ظفر کی جانب سے وکیل زاہد آصف چوہدری نے کیس کی پیروی کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ آئین اس معاملے میں واضح ہے اور صدر سمری کو اس طرح زیرِ التوا نہیں رکھ سکتے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشد حفیظ نے عدالت کو بتایا کہ صدر اب سمری مسترد بھی نہیں کر سکتے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ صدر کے اختیار کا معاملہ بعد میں دیکھا جائے گا، فی الحال وفاقی حکومت بتائے کہ 15 دن گزرنے کے بعد اس نے کیا اقدام کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں نئے تعینات ہونے والے ججز کا معاملہ بھی لٹکا ہوا ہے۔
عدالت نے وفاقی حکومت سے کل تک جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔