مکہ دفاعی معاہدہ تاریخ ساز، اسلامی دنیا کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا چاہیے: خواجہ آصف
وزیر دفاع خواجہ آصف نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے کو تاریخ ساز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی دنیا میں اس نوعیت کا پہلے کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق تین بڑے اسلامی ممالک نے مل کر ایک خالصتاً دفاعی معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت تینوں میں سے کسی ایک ملک پر جارحیت کی صورت میں تینوں ممالک مل کر اس کا مقابلہ کریں گے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ یہ ایک قابلِ تقلید معاہدہ ہے اور آنے والے وقتوں میں اسلامی دنیا کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی ممالک کا برسوں سے استحصال ہوتا رہا ہے، اس لیے انہیں اپنی دفاعی، نظریاتی اور جغرافیائی حدود کے تحفظ کے لیے باہمی محبت، یکجہتی اور اتحاد کو فروغ دینا چاہیے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ہونے والا معاہدہ اسی سمت میں پہلا قدم ہے اور آنے والے مہینوں اور سالوں میں یہ معاہدہ پوری اسلامی دنیا کو یہ راستہ دکھائے گا کہ اپنی زمین، نظریات اور دین کے تحفظ اور ترویج کے لیے قوتیں اور وسائل کس طرح مجتمع کیے جاسکتے ہیں۔ مزید ممالک کی فوری شمولیت کے سوال پر انہوں نے کہا کہ انہیں اس بارے میں علم نہیں، تاہم اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔
خواجہ آصف نے اپنے بطور وزیر دفاع دور کے حوالے سے کہا کہ وہ بنیادی طور پر ایک سیاسی کارکن ہیں اور انہیں اقتدار میں تیسری مرتبہ وزارت دفاع کی ذمہ داری ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں فخر ہے کہ وہ ایسے وقت میں اس منصب پر موجود تھے جب پاکستان کی افواج نے ملک کا دفاع کیا۔
وزیر دفاع نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کو ملنے والی فتح اور پاکستان ایئر فورس و نیوی کے کردار کو قابلِ فخر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخی لمحات میں وزارت دفاع کی ذمہ داری ان کے پاس ہونے کے باوجود اس کامیابی کا 100 فیصد کریڈٹ ان بہادر سپاہیوں اور افسران کو جاتا ہے جنہوں نے ملک کا دفاع کیا، جبکہ مسلح افواج کے سربراہان اور متعلقہ قیادت بھی اس کریڈٹ کی حقدار ہے۔
مکہ میں معاہدے کے وقت موجود اپنے جذبات کے بارے میں خواجہ آصف نے کہا کہ وہاں موجود تمام افراد کے لیے یہ ایک تاریخ ساز لمحہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس موقع پر پاکستان کی قیادت کی۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ایک سال قبل پاکستان کو بھارت پر فتح ملی اور اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بھارت پر غلبہ عطا فرمایا، جبکہ پاکستان کی بہادر افواج اور ان کی قیادت نے ملک کی عظمت اور دفاع کے لیے جو کردار ادا کیا وہ تاریخ میں ایک نیا باب ہے۔ ان کے مطابق یہ کامیابی پاکستانی قوم اور مسلح افواج کی قربانیوں اور دفاعِ وطن کے جذبے کا نتیجہ ہے۔