Pakistan

کیمبرج نے اے ایس اور اے لیول امتحانات 2026 کے نتائج جاری کردیے

کیمبرج نے اے ایس اور اے لیول امتحانات 2026 کے نتائج جاری کردیے
۱ منٹ پہلے

کیمبرج انٹرنیشنل ایجوکیشن نے اے ایس اور اے لیول امتحانات 2026 کے نتائج جاری کردیے ہیں۔ نتائج کے اجرا کے موقع پر پاکستان کے 850 سے زائد اسکولوں کے ایک لاکھ سے زیادہ طلبہ نے اپنے نتائج حاصل کیے۔

 

کیمبرج کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 3 لاکھ 68 ہزار طلبہ نے انٹرنیشنل اے ایس اور اے لیول امتحانات دیے، جبکہ پاکستان میں جون کے امتحانی سلسلے کے دوران اے ایس، اے لیول، او لیول اور آئی جی سی ایس ای کے لیے ایک لاکھ سے زیادہ طلبہ شریک ہوئے۔ پاکستان میں طبیعیات، ریاضی، کاروباری تعلیم، کیمسٹری اور کمپیوٹر سائنس مقبول ترین مضامین میں شامل رہے۔

 

کیمبرج انٹرنیشنل ایجوکیشن کے گروپ مینیجنگ ڈائریکٹر راڈ اسمتھ نے نتائج حاصل کرنے والے طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ زیادہ طلبہ اے ایس اور اے لیول کا انتخاب کر رہے ہیں کیونکہ یہ گہرے مضموناتی علم کے ساتھ ایسی مہارتیں بھی فراہم کرتے ہیں جو جامعات اور ملازمتوں کے لیے اہم ہیں۔

 

پاکستان میں کیمبرج کی کنٹری ڈائریکٹر عظمیٰ یوسف نے کہا کہ اس سال کے نتائج خاص اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ بعض طلبہ نے علاقائی کشیدگی، غیر یقینی صورتحال اور مشکلات کے ماحول میں امتحانات کی تیاری کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ عام سال نہیں تھا اور ایسے حالات میں طلبہ کی کامیابی مزید قابل قدر ہے۔ انہوں نے طلبہ، اساتذہ، والدین اور اسکول برادریوں کو مبارکباد دی۔

 

کیمبرج کے مطابق انٹرنیشنل اے ایس اور اے لیول کی اسناد کو دنیا بھر کی جامعات، اداروں اور حکومتوں میں تسلیم کیا جاتا ہے۔ برطانیہ کی جامعات میں درخواست دینے والے کیمبرج انٹرنیشنل اے لیول طلبہ میں سے 98 فیصد کو 2025 کے داخلہ مرحلے میں کم از کم ایک یونیورسٹی سے داخلے کی پیشکش موصول ہوئی۔

 

کیمبرج نے بتایا کہ جون 2026 کے آئی جی سی ایس ای اور او لیول امتحانات کے نتائج 18 اگست کو دنیا بھر کے 3 لاکھ 15 ہزار سے زائد طلبہ کو جاری کیے جائیں گے۔

 

واضح رہے کہ 2026 کے امتحانی سیشن کے دوران پاکستان میں کیمبرج امتحانات کے تحفظ سے متعلق خدشات بھی سامنے آئے تھے۔ اپریل میں اے لیول ریاضی کا ایک پرچہ مبینہ طور پر امتحان سے قبل منظر عام پر آنے کے بعد منسوخ کرکے دوبارہ امتحان کا اعلان کیا گیا تھا۔ بعد ازاں اے ایس لیول ریاضی کا ایک اور پرچہ بھی لیک ہونے کے باعث منسوخ کیا گیا، جس کے بعد وفاقی وزارت تعلیم نے معاملے کی تحقیقات اور امتحانی نظام کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔ 

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں