قیدی کو فرار کروانے والےاڈیالہ جیل کے 3 اہلکار گرفتار
راولپنڈی پولیس نے عدالتی پیشی کے بعد جہلم جیل منتقل کیے جانے والے قیدی کے فرار میں مبینہ معاونت کے الزام میں اڈیالہ جیل کے 3 اہلکاروں کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار اہلکاروں میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر توقیر حسین، ہیڈ کانسٹیبل محبوب خان اور کانسٹیبل قاسم شامل ہیں۔ تینوں کو سٹی پولیس افسر حسن مشتاق سکھیرا کی ہدایت پر گرفتار کیا گیا۔
پولیس کے مطابق واقعہ منگل کو مندرہ کے علاقے میں پیش آیا، جہاں سنگین جرائم میں ملوث قیدی حماد کو عدالت سے جہلم جیل منتقل کیا جارہا تھا۔
پولیس بیان کے مطابق گرفتار اہلکاروں اور قیدی کے ساتھیوں نے اسے سرکاری گاڑی سے نکال کر نجی گاڑی میں منتقل کرنے کی منصوبہ بندی کی۔ مندرہ پولیس نے مشتبہ افراد کو روکنے کی کوشش کی تو حماد اور اس کے ساتھیوں نے پولیس پر فائرنگ کردی، جس کے دوران حماد فرار ہوگیا جبکہ اس کا ایک ساتھی دانیال گرفتار کرلیا گیا۔ گرفتار ملزم سے کلاشنکوف بھی برآمد ہوئی۔
گوجر خان کے سب ڈویژنل پولیس افسر سید دانیال حسن کے مطابق حماد کے ساتھ سفر کرنے والے اہلکاروں، جن میں گرفتار کیے گئے تینوں اہلکار بھی شامل تھے، نے وین کے ڈرائیور کو ایک ہوٹل پر گاڑی روکنے کا کہا۔ ڈرائیور کو شبہ ہوا تو اس نے مندرہ پولیس کو اطلاع دی۔
پولیس افسر کے مطابق مندرہ تھانے کے ایس ایچ او سید ذکا الحسن موقع پر پہنچے تو قیدی کے ساتھی اسے نجی گاڑی میں منتقل کرکے پولیس پر فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے۔
پولیس نے سرکاری وین بھی قبضے میں لے لی ہے۔ پولیس کے مطابق حماد پر اڈیالہ جیل کے ایک اہلکار کے قتل کا بھی الزام ہے اور چند روز قبل اڈیالہ جیل میں اس سے موبائل فون برآمد ہونے کے بعد اسے جہلم جیل منتقل کیا گیا تھا۔
واقعے کا مقدمہ مندرہ تھانے میں درج کرلیا گیا ہے، جبکہ حماد کی گرفتاری کے لیے پولیس کے چھاپے اور سرچ آپریشن جاری ہیں۔