اسلام آباد میں یادگارِ فتح کا افتتاح، 220 فٹ بلند قومی پرچم بھی لہرا دیا گیا
صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں معرکۂ حق کی یاد میں تعمیر کی گئی یادگارِ فتح کا افتتاح کردیا۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا، جس کے بعد یادگارِ فتح کی تعمیر اور اہمیت سے متعلق ویڈیو پیش کی گئی۔
چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر، چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی، وزیر دفاع، وزیر خارجہ اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سمیت دیگر اہم شخصیات بھی تقریب میں شریک ہوئیں۔
صدر آصف علی زرداری نے اپنے خطاب میں کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے بھارت کو عبرتناک شکست دی، جبکہ یادگارِ فتح معرکۂ حق میں کامیابی، شہدا اور غازیوں کی لازوال داستان ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان جنگ نہیں بلکہ امن چاہتا ہے، تاہم امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔
پاکستان خطے میں استحکام کی علامت بن چکا ہے اور امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں بھی پاکستان نے کردار ادا کیا۔
وزیراعظم نے فلسطینی عوام اور کشمیریوں کے حقوق کے لیے پاکستان کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا جبکہ افغانستان پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔
انہوں نے کہا کہ قوم متحد ہو تو کوئی طاقت پاکستان کو شکست نہیں دے سکتی اور کسی کو پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یومِ آزادی کے آغاز پر رات 12 بجے یادگارِ فتح کے مقام پر سول و عسکری قیادت نے 220 فٹ بلند پاکستانی پرچم بھی لہرایا۔