مذاکرات بحالی کافیصلہ نہیں ہوا،عراقچی،ہرمز ایرانی کی ہےاوررہےگی،غریب آبادی
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے بارے میں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ایرانی خبر رساں ادارے اسنا کے مطابق عراقچی نے کہا کہ قطر اور پاکستان ثالث کے طور پر ایران سے رابطے میں ہیں اور دونوں جانب پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
عباس عراقچی کے مطابق اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمت میں ’’جنگ کے خاتمے‘‘ کی بات کی گئی تھی، نہ کہ جنگ بندی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے اس مفاہمت کی خلاف ورزی کی، جس کے بعد لڑائی دوبارہ شروع ہو گئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسی لیے ’’60 روزہ جنگ بندی‘‘ جیسی کوئی چیز موجود نہیں تھی جس میں توسیع کی ضرورت پڑتی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ امریکا کے ساتھ رابطوں کے لیے پہلے استعمال ہونے والے ذرائع اب مؤثر نہیں رہے اور تہران اس وقت رابطے کے لیے ایک ’’عبوری راستہ‘‘ تیار کر رہا ہے، جو بعد میں مستقل شکل اختیار کر سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز ’’ایرانی تھی، ہے اور رہے گی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ آبنائے ہرمز ’’ایرانی تھی، ہے اور رہے گی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر نہ کسی ٹویٹ کے ذریعے اور نہ ہی طیارہ بردار بحری جہاز کے ذریعے قبضہ کیا جا سکتا ہے۔
غریب آبادی نے مزید کہا کہ ایران نہ دھمکیوں سے ڈرتا ہے اور نہ طاقت کے مظاہرے سے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند یا کھولنے کا اختیار ایران کے پاس ہے، جبکہ امریکا کو اب تک ’’بھاری سٹریٹیجک شکست‘‘ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
امارات کے جہاز پر حملے کی اطلاع
دوسری جانب آبنائے ہرمز سے گزرنے والے متحدہ عرب امارات کے ایک بحری جہاز پر حملے کی اطلاع بھی سامنے آئی ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق 14 اگست کو متحدہ عرب امارات کی سرکاری تیل کمپنی ادنوک کے زیرانتظام دو آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔