ایچ آئی وی سکریننگ لازمی طور پر یقینی بنائی جائے،وزیرِ صحت
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت وزارتِ صحت میں ایچ آئی وی/ایڈز سے متعلق جوائنٹ ورکنگ گروپ کا اجلاس منعقد ہوا۔ میجر جنرل (ر) اظہر محمود کیانی، ایڈیشنل سیکریٹری وزارتِ صحت بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
گلوبل فنڈ کے ہیڈ آف گرانٹ مینجمنٹ، گلوبل فنڈ کنٹری ٹیم کی نمائندہ، عالمی ادارۂ صحت (WHO)، UNAIDS، UNICEF اور UNDP کے کنٹری نمائندگان بھی ورکنگ گروپ میں شامل ہیں۔ گروپ میں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے محکمۂ صحت کے سیکریٹریز بھی شامل ہیں۔
اجلاس میں ملک میں ایچ آئی وی کی مجموعی صورتحال، پروگرام پر عملدرآمد اور نگرانی کے نظام کا جائزہ لیا گیا۔ ڈیجیٹل ڈیٹا، صوبائی اقدامات اور گلوبل فنڈ کے تعاون سے جاری سرگرمیوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم ٹاسک فورس اور دیگر مجاز فورمز کی جانب سے منظور شدہ سفارشات اور اقدامات پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں انجیکشن سیفٹی، بلڈ سیفٹی، انفیکشن پریوینشن اینڈ کنٹرول اور عوامی آگاہی سے متعلق اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
ایچ آئی وی کی وائرل لوڈ ٹیسٹنگ، نگرانی اور ڈیجیٹل نظام کی بہتری، بارڈر اسکریننگ اور وزیراعظم ٹاسک فورس کی سفارشات پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا گیا۔
مصطفیٰ کمال نے ہدایت کی کہ ملک بھر میں ہر بڑے یا معمولی آپریشن اور جلد چیرنے یا چھیدنے والے طبی عمل سے قبل ایچ آئی وی اسکریننگ لازمی طور پر یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کی سہولیات میں ایچ آئی وی کی منتقلی کے خطرات کو مزید کم کیا جائے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ سندھ، پنجاب اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں معمولی و بڑے جراحی طریقۂ کار سے قبل ایچ آئی وی اسکریننگ پہلے ہی کی جارہی ہے۔
مصطفیٰ کمال نے بلوچستان، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے متعلقہ حکام کو سرجری سے قبل ایچ آئی وی اسکریننگ کے نفاذ کے لیے ضروری نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزارنے والے بچوں کے لیے غذائی معاونت کو بھی خصوصی اہمیت دینے کی ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ بچوں کی دیکھ بھال صرف طبی علاج تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ان کے لیے غذائی، نفسیاتی اور فلاحی معاونت بھی یقینی بنائی جائے۔
وفاقی وزیرِ صحت نے ہدایت کی کہ آئندہ جوائنٹ ورکنگ گروپ کے اجلاس میں تمام صوبائی ہیلتھ کیئر کمیشنز کو مدعو کیا جائے اور صوبوں میں انفیکشن پریوینشن اینڈ کنٹرول کے طریقۂ کار کا جامع جائزہ لیا جائے۔
میجر جنرل (ر) اظہر محمود کیانی نے کہا کہ پنجاب حکومت صوبے کے ایچ آئی وی ڈیٹا کو قومی ایچ آئی وی مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے ساتھ جلد از جلد منسلک کرے، تاکہ ملک میں ایچ آئی وی کی صورتحال کی متحد اور بروقت نگرانی ممکن بنائی جاسکے۔
اجلاس میں ایچ آئی وی سے منسلک بدنامی کے خاتمے، کمیونٹی انگیجمنٹ اور کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان انسدادِ ایچ آئی وی کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔ ایچ آئی وی ایک قابلِ روک تھام بیماری ہے اور اس کی روک تھام کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر مؤثر اقدامات یقینی بنانا ہوں گے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ اجلاس میں دی گئی تمام ہدایات پر پیش رفت سے متعلق جامع رپورٹ آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے۔