Pakistan

آزاد کشمیر انتخابات متنازع تھے، تحفظات دور ہونے تک ن لیگ سے تعاون نہیں ہوگا، بلاول بھٹو

آزاد کشمیر انتخابات متنازع تھے، تحفظات دور ہونے تک ن لیگ سے تعاون نہیں ہوگا، بلاول بھٹو
۱ منٹ پہلے

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابات متنازع تھے اور جب تک پیپلزپارٹی کے تحفظات دور نہیں کیے جاتے، مسلم لیگ ن کے ساتھ کوئی تعاون نہیں ہوگا۔

 

پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے جائز اعتراضات دور کرنے کے لیے مسلم لیگ ن نے کوئی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا اتحادیوں کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے؟

 

عمران خان سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ہر قیدی کو صحت اور علاج کی سہولت فراہم کرنا اس کا بنیادی حق ہے۔ بانی پی ٹی آئی سمیت تمام قیدیوں کو علاج اور طبی سہولیات ملنی چاہییں۔

 

انہوں نے کہا کہ انہوں نے حکومت کے اعتراضات نہیں دیکھے، اس لیے اس پر تبصرہ نہیں کریں گے، تاہم مسلم لیگ ن کے بعض اہم رہنماؤں اور وزرا نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

 

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ بہتر ہوتا حکومت خود عمران خان کے علاج یا طبی معائنے کا انتظام کرتی۔ سپریم کورٹ کے حکم سے قبل ہی حکومت کو طبی سہولت فراہم کرنی چاہیے تھی۔

 

اپوزیشن کا پارلیمانی کردار
بلاول بھٹو نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کا پارلیمانی عمل سے دور رہنا حکومت کے لیے ایک بڑی سیاسی کامیابی ہوسکتی ہے، جبکہ اپوزیشن کے پارلیمانی بائیکاٹ کا کامیاب ہونا ایک اہم پیش رفت ہوگی۔

 

انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس سے ان کی ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ پارلیمان کو عزت دی ہے اور چاہتی ہے کہ پارلیمان مکمل طور پر فعال رہے۔

 

بلاول بھٹو کے مطابق بعض اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمانی امور کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تھا، تاہم پارلیمان کو فعال بنانے کے لیے قائمہ کمیٹیوں کو بھی فعال کرنا ضروری ہے۔ ان کی خواہش ہے کہ اپوزیشن جماعتیں کمیٹیوں کا حصہ بنیں اور قائمہ کمیٹیوں میں واپس آئیں۔

 

انہوں نے کہا کہ ہم سب پر فرض ہے کہ انتخابی عمل کو بہتر بنائیں۔

 

نئے صوبوں کے قیام پر مؤقف
نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بلاول بھٹو نے کہا کہ عوام کی رضامندی اور سیاسی اتفاقِ رائے سے نئے صوبے قائم ہونے چاہییں۔

 

انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے حوالے سے پارلیمان میں پہلے ہی اتفاقِ رائے موجود ہے اور پیپلزپارٹی جنوبی پنجاب سے متعلق پارلیمانی اتفاقِ رائے کے ساتھ کھڑی ہے۔

 

بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ پنجاب کے خلاف کسی سازش کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ ہر صوبے کا اپنا مؤقف ہے اور سندھ کا مؤقف بھی سب کے سامنے ہے۔

 

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ جہاں اتفاقِ رائے موجود نہیں، وہاں سیاسی جماعتوں کو اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ فیصلے عوامی رائے اور باہمی اتفاقِ رائے سے کیے جانے چاہییں۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں