سرکاری گاڑیوں کے فیول پر 5 سال میں 69 ارب روپے خرچ
پاکستان کے عوام کی جیب سے نکلا ٹیکس کا پیسہ سرکار کی گاڑیوں کے فیول میں 69 ارب روپے بن کر جل گیا۔
حکومت نے گزشتہ 5 سالوں میں سرکاری گاڑیوں کے پٹرول اور ڈیزل پر تقریباً 69 ارب روپے خرچ کر دیے۔ جی ہاں، 69 ارب روپے۔
وزارتِ خزانہ نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ مالی سال 2021 سے 2025 تک سرکاری گاڑیوں کے فیول پر مجموعی طور پر 69 ارب روپے خرچ ہوئے۔
ان میں سے تقریباً 16 ارب روپے پی ٹی آئی حکومت کے دور میں خرچ ہوئے، جبکہ باقی بڑی رقم شہباز شریف کی حکومتوں نے خرچ کی۔
اب ذرا بجٹ اور اصل خرچ کا فرق دیکھیے۔
مالی سال 2025 میں پٹرول اور ڈیزل کے لیے 16 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، لیکن خرچ ہوئے 21 اعشاریہ 8 ارب روپے۔
یعنی مختص بجٹ سے تقریباً 6 ارب روپے زیادہ۔
اور مالی سال 2023 میں تو صورتحال مزید دلچسپ تھی۔ بجٹ میں سرکاری فیول کے لیے 9 ارب روپے رکھے گئے، مگر خرچ ہوئے 15 اعشاریہ 7 ارب روپے، یعنی مختص رقم سے تقریباً 73 فیصد زیادہ۔
اب حکومت کہتی ہے کہ مالی سال 2026 میں پٹرول اور ڈیزل کی مد میں 2 اعشاریہ 1 ارب روپے کی بچت ہوئی ہے۔ اچھی بات ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ مختص بجٹ سے زیادہ خرچ ہونے والے پیسوں کا حساب کون دے گا؟
کیونکہ 2011 میں سرکاری گاڑیوں کے اخراجات کم کرنے کے لیے ٹرانسپورٹ مونیٹائزیشن پالیسی بھی متعارف کرائی گئی تھی۔
مقصد تھا سرکاری گاڑیوں، ڈرائیورز، پٹرول اور مینٹیننس کے اخراجات کم کرنا اور گاڑیوں کے غلط استعمال کو روکنا۔
لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ وزیرِ خزانہ کے تحریری جواب میں اس پالیسی کا کوئی مخصوص آڈٹ ہی نہیں کیا گیا۔
تو پھر سوال یہ ہے کہ غریب عوام سے ٹیکس وصول کرکے خزانہ بھرا جائے یا حکمرانوں اور سرکاری افسران کے مفت پٹرول اور لگژریز پر اڑا دیا جائے؟