Business

غلط اعداد و شمار،سبسڈی، کارپوریٹ ٹیکس بچا کر شوگر مافیا نے اربوں کما لیے،پھر کمائی کی تیاری

غلط اعداد و شمار،سبسڈی، کارپوریٹ ٹیکس بچا کر  شوگر مافیا نے اربوں کما لیے،پھر  کمائی کی تیاری
۱ منٹ پہلے

چینی کی برآمد اور درآمد کے چکر میں مالکان اور شوگر مافیا نے غلط اعداد و شمار دے کر، سبسڈی لے کر اور کارپوریٹ ٹیکس بچا کر اربوں روپے کما لیے۔ گزشتہ کئی سالوں کے دوران چینی کی برآمد و درآمد کے اس چکر سے اربوں روپے بٹورنے والی شوگر ملز ایسوسی ایشن نے  پھر کمائی کے لئےایک بار پھر 6 لاکھ 33 ہزار ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ شروع کر دیا ہے، جس سے ایک مرتبہ پھر ملک میں چینی کی قیمتیں بڑھنے اور عوام کی جیبوں پر اضافی بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے۔

 

گزشتہ سال بھی حکومت نے پہلے ساڑھے 7 لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی، جس کی وجہ سے مارکیٹ میں چینی کی قلت پیدا ہوئی تو صارفین 120 روپے کلو والی چینی 200 روپے سے زائد میں خریدنے پر مجبور ہوئے۔ قیمتیں کنٹرول کرنے کے لیے 3 لاکھ میٹرک ٹن چینی ٹیکس اور ڈیوٹی معاف کرکے درآمد کی گئی، لیکن قیمتیں کم ہوئیں نہ درآمدی چینی فروخت ہو سکی۔ اب حکومت ایک بار پھر 1 لاکھ 8 ہزار میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔

 

گزشتہ سال چینی کی برآمد کے بعد اسلام آباد میں چینی 55 روپے، خضدار میں 56، کوئٹہ میں 58، پشاور میں 72، فیصل آباد میں 52، لاہور میں 44، سیالکوٹ میں 49، حیدرآباد میں 57، سکھر میں 64 اور کراچی میں چینی 55 روپے فی کلو مہنگی فروخت ہوتی رہی۔

 

اس حوالے سے آڈٹ حکام نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بتایا کہ شوگر ملز مالکان کی چینی کے معاملے پر اس من مانی سے عوام پر 300 ارب روپے سے زائد کا اضافی بوجھ پڑا، جبکہ مسابقتی کمیشن کے مطابق شوگر ملز نے 13 فیصد اضافی پیداوار کے جھوٹے اعداد و شمار دے کر چینی برآمد کی۔ 57 لاکھ میٹرک ٹن کی پیداوار کو 66 لاکھ ظاہر کیا گیا۔ مالی سال 2019-20 میں ملز مالکان کو 2 ارب 47 کروڑ روپے سبسڈی ملی۔

 

رپورٹ کے مطابق 2015 سے 2020 کے درمیان چینی کی برآمد میں بڑے فراڈ کا پردہ چاک ہوا۔ افغانستان کو 23 لاکھ 55 ہزار میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا، مگر ڈیٹا کے مطابق صرف 15 لاکھ میٹرک ٹن چینی افغانستان پہنچی۔ 7 لاکھ 78 ہزار میٹرک ٹن چینی کا ریکارڈ ہی غائب ہے۔

 

قیمتیں بڑھانے پر 38 شوگر ملز کے خلاف مقدمات درج ہوئے۔ ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم نے ایف آئی آرز درج کرائیں۔ ایف آئی اے کو شبہ تھا کہ قیمتیں بڑھا کر عوام سے 110 ارب روپے بٹورے گئے۔ 2018 سے 2020 تک پیداواری لاگت کے غلط اعداد و شمار سے 53 ارب روپے کا اضافی منافع کمایا گیا۔ ملز مالکان نے 18 ارب روپے کا کارپوریٹ ٹیکس بھی بچایا۔ دستاویز کے مطابق 2020 تک حکومت سے چینی برآمد کرنے کے لیے 4 ارب 12 کروڑ روپے کی سبسڈی بھی لی گئی۔

 

ایک بار پھر شوگر ملز مالکان 80 لاکھ میٹرک ٹن پیداوار کا تخمینہ دے کر 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس ہونے کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں۔ اسی بنیاد پر 6 لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی فوری اجازت مانگ لی گئی ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں