Breaking News

کیا آپ کا اگلا فون سیٹلائٹ فون ہوگا؟ موبائل ٹیکنالوجی میں بڑی تبدیلی

کیا آپ کا اگلا فون سیٹلائٹ فون ہوگا؟ موبائل ٹیکنالوجی میں بڑی تبدیلی
۶ گھنٹے پہلے

اسمارٹ فون ٹیکنالوجی تیزی سے ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں عام موبائل فون، بغیر کسی اضافی ڈیوائس یا سیٹلائٹ ڈش کے براہِ راست خلا میں موجود سیٹلائٹس سے رابطہ قائم کر سکتا ہے۔

 

اس ٹیکنالوجی کو ڈائریکٹ ٹو سیل (D2C) کہا جاتا ہے، جس کے ذریعے ایسے علاقوں میں بھی موبائل کنیکٹیویٹی فراہم کی جا سکتی ہے جہاں روایتی موبائل ٹاورز موجود نہیں یا کسی ہنگامی صورتِ حال میں زمینی نیٹ ورک ناکام ہو جائے۔

 

اسٹارلنک کی ڈائریکٹ ٹو سیل سروس امریکا اور نیوزی لینڈ کے بعد فلپائن میں بھی تجارتی طور پر دستیاب ہو چکی ہے، جبکہ جاپان، آسٹریلیا، کینیڈا، چلی، پیرو اور سوئٹزرلینڈ سمیت متعدد ممالک میں اس حوالے سے شراکت داری اور آزمائشی منصوبے جاری ہیں۔ فلپائن میں گلوب ٹیلی کام کے ذریعے شروع کی گئی سروس جنوب مشرقی ایشیا میں اپنی نوعیت کی پہلی تجارتی سروس ہے۔

 

ڈائریکٹ ٹو سیل ٹیکنالوجی کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ صارف کو خصوصی سیٹلائٹ فون، ڈش یا اضافی ہارڈویئر کی ضرورت نہیں پڑتی۔

 

مطابقت رکھنے والے موبائل فونز سیلولر سگنل دستیاب نہ ہونے کی صورت میں سیٹلائٹ سے رابطہ قائم کر سکتے ہیں۔ ابتدائی طور پر اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹیکسٹ میسجز، ہنگامی اطلاعات، لوکیشن شیئرنگ، بنیادی نیویگیشن اور محدود نوعیت کی میسجنگ سروسز فراہم کی جا رہی ہیں۔

 

تاہم فی الحال یہ ٹیکنالوجی ویڈیو اسٹریمنگ، آن لائن گیمنگ، بڑی فائلز ڈاؤن لوڈ کرنے یا زیادہ گنجائش والے ڈیٹا ٹریفک کے لیے موزوں نہیں۔ ماہرین کے مطابق سیٹلائٹ ٹیکنالوجی روایتی موبائل نیٹ ورک کا مکمل متبادل نہیں بلکہ اس کی ایک اضافی تہہ کے طور پر کام کرے گی۔

 

کئی دہائیوں سے موبائل کوریج بڑھانے کا بنیادی طریقہ نئے ٹاورز کی تعمیر رہا ہے۔ تاہم دور دراز پہاڑی علاقوں، جزائر، جنگلات اور سمندری علاقوں میں ٹاورز لگانا انتہائی مہنگا ثابت ہوتا ہے۔

 

ایسے علاقوں میں صارفین کی تعداد کم ہونے کے باعث موبائل کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری کا مالی فائدہ بھی محدود رہتا ہے۔ ڈائریکٹ ٹو سیل ٹیکنالوجی نے ٹیلی کام آپریٹرز کو ایک نیا راستہ فراہم کر دیا ہے۔ اب کمپنیوں کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ مشکل علاقوں میں نیا انفرااسٹرکچر تعمیر کرنے کے بجائے خلا میں موجود سیٹلائٹ نیٹ ورک سے کوریج خریدیں۔

 

یہ تبدیلی مستقبل میں ٹیلی کام کمپنیوں اور سیٹلائٹ آپریٹرز کے درمیان طاقت کے توازن پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ جیسے جیسے صارفین سیٹلائٹ کوریج کو موبائل سروس کا مستقل حصہ سمجھنا شروع کریں گے، سیٹلائٹ نیٹ ورک کے مالکان کی اہمیت بھی بڑھ سکتی ہے اور وہ کوریج کی قیمت اور شرائط طے کرنے میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل کر سکتے ہیں۔

 

اس شعبے میں مقابلہ صرف اسٹارلنک تک محدود نہیں رہا۔ چین بھی اپنی ڈائریکٹ ٹو سیل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے۔ چینی کمپنی اسپیس سیل (SpaceSail) لو ارتھ آربٹ سیٹلائٹس کے ذریعے عام اسمارٹ فونز کو براہِ راست سیٹلائٹ نیٹ ورک سے منسلک کرنے کی ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہے۔

 

چین میں ہواوے اور شیاؤمی کے بعض فونز پہلے ہی سیٹلائٹ کمیونیکیشن کی سہولت فراہم کرتے ہیں، تاہم یہ نظام روایتی جیو اسٹیشنری سیٹلائٹس پر انحصار کرتا ہے، جو زمین سے تقریباً 36 ہزار کلومیٹر کی بلندی پر موجود ہوتے ہیں۔

 

اس کے برعکس لو ارتھ آربٹ سیٹلائٹس زمین کے کہیں زیادہ قریب ہوتے ہیں، جس سے عام موبائل فونز کے ساتھ براہِ راست رابطہ نسبتاً زیادہ عملی ہو جاتا ہے۔

 

جاپان بھی سیٹلائٹ ٹو فون سروسز کے حوالے سے اہم پیش رفت کر رہا ہے۔ جاپان کی بڑی ٹیلی کام کمپنیوں نے سیٹلائٹ میسجنگ اور ڈائریکٹ ٹو ڈیوائس سروسز متعارف کرانا شروع کر دی ہیں۔ ان سروسز کا مقصد بالخصوص پہاڑی علاقوں، جنگلات، سمندری حدود اور قدرتی آفات کے دوران مواصلاتی رابطہ برقرار رکھنا ہے۔

 

اس ٹیکنالوجی کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ رہی ہے کہ کسی ملک میں تقریباً پوری آبادی کو موبائل کوریج حاصل ہونے کے باوجود اس کے وسیع جغرافیائی علاقے روایتی موبائل نیٹ ورک سے باہر ہو سکتے ہیں۔

 

سیٹلائٹ ٹیکنالوجی میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔

 

ایپل نے 2024 میں سیٹلائٹ آپریٹر گلوبل اسٹار میں 20 فیصد حصص حاصل کیے تھے اور آئی فون کے لیے سیٹلائٹ سروسز کی توسیع کے لیے بڑی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا۔

 

تاہم 2026 میں ایمازون نے گلوبل اسٹار کو حاصل کرنے کے لیے معاہدہ کیا، جبکہ ایپل کی سیٹلائٹ سروسز کو جاری رکھنے کے حوالے سے بھی انتظامات کیے گئے ہیں۔

 

یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی اب صرف ٹیلی کام کمپنیوں کا معاملہ نہیں رہی بلکہ عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے بھی اسٹریٹجک اہمیت اختیار کر چکی ہے۔

 

اگرچہ ڈائریکٹ ٹو سیل ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے، لیکن اس کی اپنی حدود بھی ہیں۔ ایک سیٹلائٹ کو وسیع جغرافیائی علاقے میں محدود بینڈوڈتھ متعدد صارفین کے درمیان تقسیم کرنا پڑتی ہے، جبکہ زمینی موبائل ٹاورز مقامی سطح پر اسپیکٹرم کو دوبارہ استعمال کرکے زیادہ تعداد میں صارفین کو تیز رفتار ڈیٹا فراہم کر سکتے ہیں۔

 

اسی طرح عمارتوں کی موٹی دیواریں اور چھتیں سیٹلائٹ سگنلز کے لیے رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے شہروں میں فائبر، 5G اور روایتی موبائل ٹاورز مستقبل قریب میں بھی بنیادی حیثیت برقرار رکھیں گے۔

 

سیٹلائٹ کمیونیکیشن کے پھیلاؤ کے ساتھ سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا کے تحفظ کے خدشات بھی اہم ہو گئے ہیں۔

 

سیکیورٹی ماہرین نے بعض سیٹلائٹ کمیونیکیشن سسٹمز میں غیر خفیہ شدہ ڈیٹا کے ممکنہ خطرات کی نشاندہی کی ہے، جس کے بعد بعض کمپنیوں نے انکرپشن اور سیکیورٹی کے نظام بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کی ہے۔

 

ماہرین کے مطابق سیٹلائٹ نیٹ ورکس کے پھیلاؤ کے ساتھ صارفین کے ڈیٹا، نیٹ ورک سیکیورٹی اور حساس مواصلات کے تحفظ کو بنیادی ترجیح دینا ہوگی۔

 

ماہرین کے مطابق مستقبل کا موبائل نیٹ ورک صرف ٹاورز، فائبر اور 5G پر مشتمل نہیں ہوگا بلکہ اس میں زمینی اور خلائی نیٹ ورکس کا امتزاج شامل ہوگا۔

 

گنجان آباد شہروں میں روایتی موبائل ٹاورز اور فائبر نیٹ ورک زیادہ تر ڈیٹا ٹریفک سنبھالیں گے، جبکہ دور دراز علاقوں، سمندری راستوں، پہاڑی خطوں اور قدرتی آفات کے دوران سیٹلائٹس اہم کردار ادا کریں گے۔

 

اس تبدیلی سے ٹیلی کام کمپنیوں کے لیے ایک نیا سوال بھی پیدا ہو گیا ہے کہ کیا وہ سیٹلائٹ کوریج کو محض ایک ہول سیل سروس کے طور پر خریدیں گی یا اسے اپنے اسٹریٹجک انفرااسٹرکچر کا حصہ بنائیں گی؟

 

کیونکہ جیسے جیسے عام موبائل فون خلا سے رابطہ قائم کرنے کے قابل ہوتے جائیں گے، اصل مقابلہ صرف اس بات پر نہیں ہوگا کہ کون زیادہ کوریج فراہم کرتا ہے بلکہ اس بات پر بھی ہوگا کہ سیٹلائٹ اور صارف کے درمیان رابطے کو کنٹرول کون کرتا ہے اور اس کی قیمت کون طے کرتا ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں