پمز سانحہ کیسے پیش آیا؟ انتظامیہ کی ابتدائی رپورٹ سامنے آگئی
پمز اسپتال انتظامیہ نے 15 نومولود بچوں کی ہلاکت کے واقعے کی ابتدائی رپورٹ تیار کرلی۔
رپورٹ کے مطابق این آئی سی یو میں انکوبیٹر کے ساتھ آکسیجن کی مقدار بتانے والا نیبولائزر پھٹ گیا، جس کے باعث آکسیجن نے آگ پکڑ لی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آگ سے پیدا ہونے والا دھواں پائپ کے ذریعے بچوں کے سانس میں گیا، جبکہ بچوں کی موت آکسیجن بند ہونے اور جھلسنے سے ہوئی۔
آگ پہلے کم تھی تاہم بعد میں تیزی سے پھیل گئی۔
ریسکیو اور اسپتال انتظامیہ کے مطابق آگ ایئر کنڈیشنر کمپریسر پھٹنے کے باعث لگی اور آکسیجن سلینڈرز کی موجودگی کے باعث تیزی سے پھیلی، جبکہ ایک نومولود کو بچا لیا گیا۔
والدین اور عینی شاہدین نے نرسری میں عملے کی غیر موجودگی اور دروازے بند ہونے کا الزام عائد کیا، جبکہ ریسکیو اداروں کے دیر سے پہنچنے کی شکایت بھی کی۔
پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے عملے کی غیر موجودگی کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آئی سی یو میں 2 ڈاکٹرز، 4 نرسز اور دیگر عملہ موجود تھا۔
ضلعی انتظامیہ نے واقعے کی تحقیقات کے لیے 8 رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جو 24 گھنٹے میں رپورٹ پیش کرے گی۔