Breaking News

آیت نور قتل،10سالہ پٹھان بچےنے صرف 2 ہزار کے لالچ میں ملزمان پکڑوائے

آیت نور قتل،10سالہ پٹھان بچےنے صرف 2 ہزار کے لالچ میں ملزمان پکڑوائے
۱ منٹ پہلے

ہری پور میں درندہ صفت مجرموں کے ہاتھوں زیادتی کے بعد المناک طریقے سے قتل کی جانے والی 5 سالہ آیت نور کو گھر سے ساتھ لے جانے والے 10 سالہ پٹھان لڑکے نے صرف 2 ہزار روپے کے لالچ میں ملزمان کو پکڑوا دیا۔ یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ اس پٹھان بچے کو بھی آیت نور قتل کیس میں گرفتار ہونے والے مجرم زیادتی کا نشانہ بنا چکے ہیں اور اسے بلیک میل کرکے اس کے ذریعے دیگر چھوٹے بچوں کو بہلا پھسلا کر  لانے پر مجبور کرتےتھے۔

 

جس روز بچی ماڈل ٹاؤن ہری پور میں اپنے گھر کے باہر کھیلتے ہوئے غائب ہوئی، لواحقین کی جانب سے تھانے میں رپورٹ درج کروانے کے بعد پولیس نے اسی روز سے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ملزمان کو تلاش کرنا شروع کر دیا۔

 

انہی ویڈیوز کے ذریعے پولیس ایک 10 سالہ پٹھان بچے حسن تک پہنچی۔ متعدد ویڈیوز میں آیت نور کو اسی 10 سالہ لڑکے کے پیچھے جاتے دیکھا گیا۔ لڑکا بچی سے کچھ فاصلے پر آگے چل رہا تھا اور بچی اس کے پیچھے پیچھے چل رہی تھی۔ جب بچی تھک کر رک جاتی تو وہ بھی رک جاتا تھا۔

 

ان ویڈیوز کے سامنے آنے کے بعد ابتدا میں پولیس نے بچے سے ابتدائی پوچھ گچھ کی، لیکن اسے تھرڈ ڈگری نہیں دی گئی اور اس کی معصومیت اور بچپنے کا خیال کرتے ہوئے اس کی باتوں پر یقین کیا گیا، جس کے بعد پوچھ گچھ کرکے اسے چھوڑ دیا گیا۔

 

لیکن جب پولیس حراست میں موجود اصل ملزمان نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا مگر بچی کی لاش برآمد کروانے سے انکاری ہوگئے تو پولیس 10 سالہ حسن کو دوبارہ تھانے لے آئی اور اس سے تفتیش کی، تاہم حسن واقعے سے لاعلمی ظاہر کرتا رہا۔

 

کئی گھنٹے کی کوششوں کے بعد ایک پشتون پولیس اہلکار نے بڑے پیار سے رقم کا لالچ دے کر حسن سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اہلکار نے حسن سے کہا کہ یہ لو 2 ہزار روپے، ہمیں صرف بچی کی لاش کی جگہ بتا دو، اس کے بعد تم بھی گھر جاؤ اور ہم بھی کوئی اور کام کریں۔

 

حسن 2 ہزار روپے کے لالچ میں آگیا اور اس نے بچی کی لاش کی جگہ دکھانے کی حامی بھر لی، تاہم اس نے پولیس کو یقین دلایا کہ میں نے اس بچی کے ساتھ کوئی غلط کام نہیں کیا، مجھے ان لڑکوں نے کہا تھا کہ کسی طرح بچی کو یہاں لے آؤ، ہم تمہیں پیسے دیں گے۔

اس کے بعد حسن پولیس کو اس مقام پر لے گیا جہاں ملزمان نے زیادتی کے بعد بچی کو کنویں میں پھینکا تھا۔

 

تفتیش میں ایک اور تشویشناک بات بھی سامنے آئی ہے کہ ان لڑکوں نے حسن کو بھی مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنا رکھا تھا۔ ملزمان اسے بلیک میل کرکے اپنی ہوس کا نشانہ بناتے اور دیگر بچوں کو بھی ان کے پاس لانے کے لیے حسن کو مجبور کرتے تھے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں