Breaking News

ایبٹ آباد ،نجی سکول میں ایک اور 5 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کا واقعہ

ایبٹ آباد ،نجی سکول میں ایک اور 5 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کا واقعہ
۱ منٹ پہلے

ایبٹ آباد کے علاقے نملی میرا میں تھانہ بگنوتر کی حدود میں واقع حبیب پبلک سکول میں 5 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس پر پولیس نے دفعہ 376 تعزیراتِ پاکستان اور چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

 

والدہ کا موقف

 

ایف آئی آر کے مطابق واقعہ 24 اگست کو پیش آیا۔ بچی منت نور کی والدہ نے پولیس کو دی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ بچی مقامی حبیب پبلک  سکول نملی میرا میں نرسری کی طالبہ ہے اور معمول کے مطابق اسکول گئی تھی۔

 

والدہ کے مطابق گھر واپس آنے کے بعد بچی نے جسم کے حساس حصے میں درد کی شکایت کی، جس پر اسے چیک کیا گیا تو مبینہ طور پر خون بھی موجود تھا۔ والدہ نے بچی سے دریافت کیا تو اس نے بتایا کہ ایک نامعلوم لڑکا اسے اسکول کے واش روم میں لے گیا اور مبینہ طور پر زیادتی کی۔

 

مقدمہ درج،بچی کا طبی معائنہ

 

پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کو طبی معائنے اور ضروری قانونی کارروائی کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

 

ایف آئی آر کے مطابق پولیس نے بچی کا میڈیکل معائنہ کرانے کے لیے اسے والدہ کی نگرانی میں لیڈی ڈاکٹر کے پاس بھجوایا، جبکہ واقعے سے متعلق شواہد اور دیگر پہلوؤں کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

 

اہلِ خانہ کے مطابق ابھی تک پولیس نے اس کیس میں کسی ملزم کو گرفتار نہیں کیا۔دوسری جانب پولیس نے بتایا ہے کہ بچی کا طبی معائنہ بھی کرایا گیا، جس میں طبی طور پر زیادتی کے شواہد نہیں ملے۔ ڈاکٹر کے مطابق بچی کو آنے والا زخم کسی نوک دار چیز کے لگنے یا ناخن وغیرہ سے لگنے والا زخم ہو سکتا ہے۔

 

 

پولیس کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل

 

 

واقعے کی حساسیت کے پیشِ نظر ایس پی حویلیاں اور ایس پی انویسٹی گیشن ایبٹ آباد کی زیرِ نگرانی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے، جبکہ 4 مختلف ٹیمیں شواہد، تفتیش اور دیگر اہم امور پر الگ الگ کام کر رہی ہیں۔

 

بچی کے طبی معائنے کے حوالے سے مزید اطمینان اور کسی بھی قسم کے شک و شبہ کو دور کرنے کے لیے بچی کو گائناکالوجسٹ سے مزید تفصیلی طبی معائنے کے لیے پیش کیا جائے گا، تاکہ طبی شواہد کی روشنی میں حقائق کو مزید واضح کیا جا سکے۔

 

پولیس نے کہا ہے کہ واقعے کو ہر زاویے سے میرٹ پر دیکھا جا رہا ہے اور تمام قانونی و فرانزک شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ بچی کی طبیعت بالکل ٹھیک ہے اور وہ بحفاظت اپنے والدین کے پاس موجود ہے۔

 

پولیس کے مطابق واقعے سے متعلق حقائق کی مکمل چھان بین جاری ہے، جبکہ کسی بھی فرد کے خلاف کارروائی ٹھوس شواہد اور قانون کے مطابق عمل میں لائی جائے گی۔ کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ کیس کے حوالے سے عوام کو مزید پیش رفت سے وقتاً فوقتاً آگاہ رکھا جائے گا۔

 

 

زیادتی کی کوشش ہوئی زیادتی ہوئی نہیں،پولیس افسران

 

 

علاوہ ازیں، گزشتہ روز پولیس افسران نے ایبٹ آباد میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بچی منت نور کے ساتھ زیادتی کی کوشش ہوئی ہے، زیادتی نہیں ہوئی۔

 

پریس کانفرنس میں پولیس افسران نے بتایا کہ تفتیش جاری ہے۔ بچی کا کہنا ہے کہ اسکول میں ایک بچہ مجھے واش روم لے کر گیا اور اس نے میرے ساتھ زیادتی کی کوشش کی۔

 

پولیس افسران کے مطابق بچی اس لڑکے کا نام نہیں بتا رہی، ممکن ہے کہ وہ ابھی خوف کی حالت میں ہو اور اسی وجہ سے نام نہ لے رہی ہو۔

 

انہوں نے کہا کہ اسکول کے عملے اور ہیڈ ماسٹر سے رابطہ ہے۔ پولیس ٹیم متاثرہ بچی اور اس کے والدین کو ساتھ لے کر اسکول جائے گی، ملزم کی شناخت کی جائے گی اور اسے گرفتار کیا جائے گا۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں